تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 428
۴۲۵ سفر د یلی لدھیانہ او ر ا مر تر اکتوبر کو حضور خواجہ میر درد کے مزار پر جماعت کو ساتھ لے گئے اور لمبی دعا کی۔وہاں سے فارغ ہو کر حضرت ولی اللہ شاہ صاحب اور آپ کے والد حضرت شاہ عبدالرحیم (۱۹۴۴ء۔۱۷۱۹ء) کے مزار پر گئے اور بہت دیر تک دعا میں مصروف رہے۔۲۹/ اکتوبر کو شاہ نظام الدین صاحب محبوب الهی قدس اللہ سرہ کے مزار مبارک پر تشریف لے گئے۔اس وقت وہاں کے سجادہ نشینوں میں سے صاحبزادہ سید غلام معین الدین نظامی کے علاوہ خواجہ حسن نظامی صاحب بھی موجود تھے جنہوں نے نہایت محبت و خلوص سے تمام مقامات دکھائے اور ہر مقام کے تاریخی حالات عرض کئے اور اپنے خاص حجرے میں بھی حضرت اقدس اور خدام کو لے گئے اور ایک کتاب بنام " شواہد نظامی " پیش کی بلکہ حضور کے وہاں تشریف لے جانے سے پیشتر مکان پر آکر یہ بھی عرض کی۔آپ جب وہاں آئیں تو اپنے اصحاب کے ساتھ میری دعوت قبول فرمائیں (خواجہ صاحب حضور کی دہلی سے روانگی کے وقت پر بھی اسٹیشن پر موجود تھے) حضرت اقدس نے شاہ نظام الدین صاحب اولیاء اور امیر خسرو (۱۲۵۳-۱۳۲۵ء) کے مزار پر فاتحہ پڑھا۔ای روز حضرت حضرت مولوی نور الدین صاحب کی آمد کا ایمان افروز واقعہ مولوی نور الدین صاحب قادیان سے دہلی پہنچے۔حضور کو نقرس کی تکلیف ہو گئی تھی اس لئے ان کو تار دیا گیا تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب آپ کے مفرد علی کی تفصیل بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں۔" حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت خلیفہ اول میں اللہ کو تار دلوائی کہ فورا دلی پہنچ جائیں۔تار لکھنے والے نے تار میں انیجی ایٹ (immediate یعنی بلا توقف کے الفاظ لکھ دئے۔حضرت خلیفہ اول کو جب یہ تار پہنچی تو اس وقت آپ اپنے مطب میں تشریف رکھتے تھے۔تار کے ملتے ہی یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے کہ حضرت صاحب نے بلا توقف بلایا ہے میں جاتا ہوں اور گھر میں قدم تک رکھنے کے بغیر سید ھے اڈہ خانہ کی طرف روانہ ہو گئے۔کیفیت یہ تھی کہ اس وقت نہ جیب میں خرچ تھا اور نہ ساتھ کوئی بستر وغیرہ۔گھر والوں کو اطلاع ملی تو پیچھے سے ایک کمیل تو کسی شخص کے ہاتھ بھجوا دیا مگر خرچ کا انہیں بھی خیال نہ آیا اور شاید اس وقت گھر میں کوئی رقم ہوگی بھی نہیں۔اڈہ خانہ پہنچ کر حضرت خلیفہ اول نے یکہ لیا اور بٹالہ پہنچ گئے مگر ٹکٹ خریدنے کا کوئی سامان نہیں تھا۔چونکہ گاڑی میں کچھ وقت تھا آپ خدا پر توکل کر کے اسٹیشن پر ملنے لگ گئے۔اتنے میں غالبا ایک ہندور کیس آیا اور حضرت خلیفہ اول میں شر کو دیکھ کر عرض کی کہ میری بیوی بہت بیمار ہے آپ تکلیف فرما کر میرے ساتھ تشریف لے چلیں اور اسے میرے گھر پر دیکھ آئیں۔حضرت خلیفہ اول ہیں انھوں نے فرمایا کہ میں تو امام کے حکم پر دلی جا رہا