تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 427 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 427

تاریخ احمدیت جلد ۲ سفرد علی لدھیانہ اور امرتسر بزرگان امت کے قبور کی زیارت دوسرے روز صبح مفتی صاحب نے بعض احباب کی خواہش پر سیر دہلی کی اجازت چاہی تو حضور نے فرمایا لہو و لعب کے طور پر پھر نا درست نہیں یہ فضول بات ہے میں اس کو پسند نہیں کرتا۔ہاں یہاں اکثر اولیاء اللہ اور اکابر امت کے مزار ہیں ان پر جانے کا ہمارا بھی ارادہ ہے وہاں ہو آئیں۔ایک فہرست ان مزاروں کی تیار کرلی جائے۔چنانچہ مندرجہ ذیل بزرگوں کے نام لکھوائے گئے۔(۱) خواجہ باقی باللہ صاحب (۱۵۲۴ - ۱۵۷۴ء) (۲) خواجہ میر درد صاحب (وفات ۱۷۸۵ء) (۳) شاہ ولی اللہ صاحب (۱۷۰۳ ۱۷۷۳ء) (۴) خواجہ نظام الدین اولیاء صاحب (۱۲۳۸-۶۱۳۲۵) (۵) جناب خواجہ قطب الدین صاحب بختیار کاکی (وفات ۶۱۲۳۵) (۶) مخدوم نصیر الدین محمود چراغ دہلی (وفات (۱۳۵۶) فہرست تیار ہونے پر گاڑیاں منگوائی گئیں اور حضرت اقدس اپنے بعض خدام کے ساتھ جن میں حضرت میر ناصر نواب صاحب بھی تھے روانہ ہوئے۔راستہ میں فرمایا۔قبرستان میں ایک روحانیت ہوتی ہے اور صبح کا وقت زیارت قبور کے لئے سنت ہے۔یہ ثواب کا کام ہے اور اس سے انسان کو اپنا مقام یاد آجاتا ہے اور اس سے اس کے دل پر عمدہ اثر پڑتا ہے۔انسان اس دنیا میں ایک مسافر ہے آج زمین پر ہے تو کل زمین کے نیچے ہے۔آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جب انسان قبر پر جاوے تو کہے السّلامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الْقُبُورِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُسْلِمِينَ وَإِنَّا إِنْشَاءَ اللهُ بِكُمْ للاحقون انسان قبر پر جا کر اہل قبر کی مغفرت اور ترقی درجات کے لئے دعا کرے۔درود شریف بھی ایک دعا ہے۔حضور کچھ وقت کے بعد قبرستان تک پہنچ گئے۔وہاں بہت سی قبریں ایک دوسری کے قریب قریب اور اکثر زمین کے ساتھ ملی ہوئی تھیں۔حضرت اقدس نہایت احتیاط سے ان قبروں کے درمیان سے چلتے تھے۔حضرت باقی باللہ کے مزار پر پہنچ کر حضور نے دونوں ہاتھ اٹھا کر لمبی دعا کی۔دعا کے بعد مفتی محمد صادق صاحب نے عرض کیا کہ قبر پر کیا دعا کرنی چاہئے۔فرمایا صاحب قبر کے واسطے دعائے مغفرت کرنی چاہئے اور اپنے واسطے بھی خدا سے دعا کرنی چاہیئے۔انسان ہر وقت دعا کرنے کا محتاج ہے۔قبر کے سرہانے کی طرف خواجہ صاحب کے متعلق ایک نظم لکھی تھی جو حضور کی ہدایت پر مفتی صاحب نے نقل کرلی۔حضرت اقدس نے اس موقعہ پر فرمایا خواجہ باقی باللہ بڑے مشائخ میں سے تھے۔شیخ احمد سرہندی کے پیر تھے۔نیز فرمایا۔خواجہ باقی باللہ صاحب کی عمر بہت تھوڑی تھی۔مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم سے بھی کم عمر پائی تھی۔الغرض حضور خواجہ صاحب کے مزار پر دعا کر کے واپس اپنی فرودگار پر تشریف لے آئے۔اگلے دن ۲۵ / اکتوبر کو حضور کی طبیعت کسی قدر ناساز تھی اس لئے باہر تشریف نہ لے گئے۔۲۶/