تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 426 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 426

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۴۲۳ مفرد یلی لدھیانہ اور امرتسر مولوی سید محمد احسن صاحب امرد ہوی کی اقتداء میں ظہر و عصر کی نمازیں جمع و قصر کر کے پڑھیں۔بٹالہ سے گاڑی ایک بج کر ۳۵ منٹ پر روانہ ہوئی۔روانگی سے پہلے صرف بٹالہ سے امرتسر دہلی روانگی کا تار دیا گیا کیوں کہ کچھ عرصہ قبل جب کہ احباب کو حضور کے سفر دہلی کی اطلاع ملی پھگواڑہ پھلور لدھیانہ کے اسٹیشنوں پر کئی کئی دن تک خدام ، حاضر رہے اور آخر انتظار کے بعد بنگہ ضلع جالندھر کی جماعت قادیان میں آپہنچی تھی۔حضرت اقدس نے اسی بناء پر کسی اور جگہ اطلاع دینے کی اجازت نہ دی۔گاڑی بٹالہ سے امرتسر پہنچی۔ابھی تھوڑی دیر ہوئی تھی کہ کپور تھلہ سے منشی ظفر احمد صاحب اور منشی اروڑا خاں صاحب اور ڈاکٹر فیض قادر صاحب حاضر ہوئے۔جماعت امرتسر کے مخلص فرد ڈاکٹر عباد اللہ صاحب کو خبر ہوئی۔وہ روڑے ہوئے اسٹیشن پہنچے اور حضور کی خدمت میں جماعت امر تسر کی طرف سے کھانے کی درخواست کی جسے حضور نے قبول فرما لیا اور وہ نماز مغرب کے وقت پر تکلف کھانا تیار کر کے لے آئے۔دہلی کو روانگی رات کے نو بجے کے قریب گاڑی امرتسرا سیشن سے دہلی کو روانہ ہوئی اور مختلف منازل طے کرتی ہوئی بالا خر دو سرے روز (۲۳/ اکتوبر کو) قریباً تین بجے بعد دو پسر دہلی پہنچی۔دہلی میں ورود دہلی میں اس وقت میر قاسم علی صاحب، ڈاکٹر محمد اسمعیل صاحب گوڈیانوی اور دیگر چند احمدی تھے جنہوں نے اگر چہ الف خاں سیاہی والے کا مکان (واقع چتلی قبر متصل مسجد سید رفاعی صاحب) کرایہ پر پہلے سے لے لیا تھا۔مگر چونکہ ان کو بٹالہ سے روانگی کے وقت کا تار نہیں مل سکا تھا اس لئے اسٹیشن پر کوئی صاحب استقبال کے لئے بھی موجود نہ تھے۔مزید یہ کہ حضور کی تشریف آوری سے قبل حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالی) حضرت میر ناصر نواب صاحب اور حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب تو دہلی سے پہلی ٹرین سے واپس قادیان کی طرف روانہ ہو گئے تھے۔امر تسر اسٹیشن پر ان کو پتہ چلا کہ حضرت اقدس تو دہلی تشریف لے گئے ہیں چنانچہ وہ اگلی گاڑی سے دہلی واپس آئے۔بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جب دہلی اسٹیشن پر قدم رکھا تو خاندان یا جماعت کے افراد میں سے کوئی موجود نہ تھا جس پر باقی ہمراہی تو بہت حیران ہوئے مگر حضور کو کچھ بھی ملال نہ ہوا اور آپ پلیٹ فارم پر اپنے اہل بیت کے ساتھ تھوڑی دیر کے لئے ٹھر گئے۔پھر آہستہ آہستہ شہر کو چل پڑے تھوڑی دور گئے تھے کہ ڈاکٹر محمد اسمعیل خاں صاحب گو ڈیانوی بھی آملے۔جب الف خاں سیاہی والے کے مکان پر پہنچے تو دیکھا کہ سب ہی دروازے بند ہیں۔مکان بالکل خالی پڑا تھا مگر ڈاکٹر صاحب نے پوری مستعدی سے تمام ضروری اشیاء کا انتظام کر دیا۔