تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 425
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۲ کروم سفر و علی لدھیانہ اور امرتسر سفر دہلی اور لدھیانہ اور امرتسر میں پبلک لیکچر حضرت میر ناصر صاحب دہلی سے ہجرت کر کے قادیان آچکے تھے اور برسوں سے کوئی تقریب ایسی پیدا نہ ہو سکی تھی کہ حضرت ام المومنین اپنے عزیز و اقارب سے مل سکیں۔حضور نے کئی بار سفر کا ارادہ بھی کیا مگر اسے ملتوی کر دینا پڑا۔حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی وفات کے بعد حضور نے دوبارہ سفر دہلی کا فیصلہ فرمایا جس کا ایک محرک یہ بھی تھا کہ ان دنوں ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب اسٹنٹ سرجن بھی دہلی کے ڈفرن ہسپتال میں متعین تھے۔۲۱ / اکتوبر کی رات حضور نے رویا میں دیکھا کہ ” دہلی گئے ہیں تو تمام دروازے بند ہیں۔پھر دیکھا کہ ان پر قفل لگے ہوئے ہیں۔پھر دیکھا کہ کوئی شخص کچھ تکلیف دینے والی چیز میرے کان میں ڈالتا ہے۔میں نے کہا تم مجھے دکھ کیا دیتے ہو۔رسول اللہ ا کو اس سے زیادہ دکھ دیا گیا ہے۔" روانگی حضور پروگرام کے مطابق ۲/ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو صبح آٹھ بجے کے قریب قادیان سے روانہ ہوئے حضور کے اہل بیت اور خادمات کے علاوہ مندرجہ ذیل خدام کو آپ کے ہم سفر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔(۱) مولوی سید محمد احسن صاحب فاضل امروہی (۲) سیٹھ عبدالرحمن صاحب مالک ساجن کو بھی مدراس (۳) ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب اسٹنٹ سرجن شاہ پور (۴) مولوی عبدالرحیم صاحب میر تھی (۵) مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹرید ر (۲) خلیفہ رجب الدین صاحب لاہوری (۷) شیخ غلام احمد صاحب نو مسلم (۸) بابو نور الدین صاحب کلرک ڈاک خانہ (۹) شیخ حامد علی صاحب (۱۰) شیخ یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم۔مخلصین حضور کی مشایعت میں دور تک ساتھ آئے۔اور بعض طالب علم تو حضرت اقدس کی سواری کے ساتھ ساتھ بٹالہ تک دوڑتے چلے گئے۔بٹالہ اسٹیشن حضرت اقدس کی روانگی کی خبر کسی طرح سیکھواں بھی پہنچ گئی تھی اور وہاں سے میاں جمال دین صاحب اور منشی عبد العزیز صاحب پٹواری بھی شرف زیارت کے لئے آگئے۔حضرت اقدس دس بجے کے بعد بٹالہ پہنچے۔یہاں حضور اور دیگر احباب نے کھانا کھایا اور