تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 417
مدرسہ احمدیہ کی بنیاد تھا۔جماعت دوم کے لئے یہ کتابیں بطور نصاب مقرر تھیں۔شمائل ترندی مالا بد منہ عجالہ نافعہ اصول شامی دروس نحویه چهار حصص ، آجرومیہ، قدوری ، سراجی، حساب اردو گوہر منظوم فارسی طب تكسيف الحکمته قانونچه شرح رباعیات یوسفی ، انگریزی میں دوم منڈل کا کورس تھا جو ٹول کے ساتھ مل کر پڑھایا جاتا تھا۔"شاخ دینیات" کے طلبہ مدرسہ کے دوسرے لڑکوں کی طرح باقاعدہ ورزش میں بھی شامل ہوتے تھے۔مدرسہ احمدیہ کی عمارت کا ابتدائی نقشہ حضرت خلیفہ المسیح ثانی ایدہ اللہ تعالی کابین ہے اس وقت یہ عمارتیں بورڈنگ مدرسه احمدیہ کی نہ تھیں بلکہ یہاں پانی ہو تا تھا اور اس جگہ لوگ نہاتے تھے۔صرف ایک عمارت تھی جس میں چند کلاسیں پڑھتی تھیں اس میں وہ دو کمرے جو راستہ کی طرف ہیں ، نہیں تھے۔صرف چار کمرے تھے جو کنوئیں کے سامنے ہیں۔اب بازار کی طرف جو کمرے ہیں وہ بعد میں بنائے گئے۔اس وقت نہ بینچ تھے نہ کرسیاں نہ ڈیکس ہوتے تھے نہ میزیں صرف تپر (ٹاٹ) ہوتے تھے اور وہ بھی ایلین ملز کے بنے ہوئے نہیں بلکہ عام تپڑ جو چوہڑے چمار بنا کر بیچتے ہیں۔وہ عرض میں اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ اگر کوئی معمولی جسم والا انسان بھی ان پر بیٹھے تو اس کا آدھا جسم نیچے ہو جاتا ہے۔جانماز استاد کی جگہ ہوتی تھی۔" یہ مدرسہ احمدیہ جیسی عظیم الشان درس گاہ کی ابتداء تھی جس نے آئندہ چل کر خدا کے فضل اور امام وقت کی روحانی توجہ کی بدولت بر صغیر ہند و پاکستان میں بڑے بڑے مقتدر علماء پیدا کئے جنہوں نے اکناف عالم میں اشاعت اسلام کی خدمات سرانجام دیں اور اب بھی سرانجام دے رہے ہیں۔اخبار وطن" کی ایک تحریک اور اس کا انجام ۱۹۰۵ء کے آخر میں اخبار "وطن" کے ایڈیٹر مولوی انشاء اللہ خاں (۱۸۶۸ - ۱۹۲۸) نے ریویو آف ریلیج کی مقبولیت اور عالمگیر اثر دیکھ کر اچی کسی خارجی مصلحت کے مد نظر تحریک کی کہ اگر آئندہ اس رسالہ میں حضرت مرزا صاحب اور آپ کے مشن کا ذکر نہ ہو تو وہ مسلمانوں کو بھی اس کے بذریعہ اخبار اعانت کی طرف توجہ دلائیں گے اور خود بھی اس کی اشاعت کے لئے دس روپیہ ماہوار ادا کرتے رہیں گے۔مولوی انشاء اللہ خان کی اس تحریک پر خواجہ کمال الدین صاحب نے مولوی محمد علی صاحب ایڈیٹر ریویو کے اتفاق رائے سے ان کو اطلاع دی کہ "آپ سے اور آپ کے ہم رائے EN