تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 416 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 416

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۴۱۳ درسہ احمدیہ کی بنیاد میں رکھا جاوے کہ یہاں سے قرآن دان واعظ اور علماء پیدا ہوں جو دنیا کی ہدایت کا ذریعہ ہوں۔حضرت اقدس کے اس ارشاد پر بعض احباب نے تو یہ رائے دی کہ مدرسہ تعلیم الاسلام کو توڑ کر ایک خالص مذہبی مدرسہ کی بنیاد رکھی جائے۔خود مدرسہ کے ارباب حل و عقد اس بات پر متفق تھے کہ مدرستہ ختم کر دیا جائے۔مگر حضرت مولوی نور الدین صاحب اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب نے اس خیال کی مخالفت کرتے ہوئے مدرسہ کے قیام و بقا کے لئے انتہائی جدوجہد کی اور حضرت اقدس کے منشاء مبارک کے مطابق یہی مشورہ دیا کہ مدرسہ تعلیم الاسلام قائم رہے مگر اس میں ایسی تبدیلی کر دی جائے کہ حقیقی مقصد کی تکمیل ہو سکے۔حضور کا فیصلہ اس ضمن میں متعدد تجاویز اور ان پر اعتراضات بھی حضور کے سامنے رکھے گئے مگر حضرت اقدس نے حضرت مولوی نور الدین صاحب اور حضرت صاحبزدہ صاحب کے خیال کو پسند فرماتے ہوئے مدرسہ تعلیم الاسلام میں ہی دینیات کی ایک شاخ کھولنے کا فیصلہ فرمایا اور اس کے لئے حضور نے ۲۶ / دسمبر ۱۹۰۵ء کو جلسہ سالانہ کی تقریر میں نہایت قیمتی ہدایات بھی دیں۔چنانچہ حضور کے ارشاد سے یہ "شاخ دینیات " جنوری ۱۹۰۶ء کے آخر میں کھل گئی اور اسی شاخ کے قیام سے مدرسہ احمدیہ کی بنیاد پڑی۔"" مدرسہ احمدیہ" یا "شاخ مدرسہ احمدیہ کا آغاز "شاخ دینیات" کی شکل میں دینیات" کا آغاز نهایت مختصر رنگ میں ہوا۔ابتداء میں حضرت قاضی سید امیر حسین شاہ صاحب (اول مدرس) اور مولوی فضل دین صاحب (کھاریاں) دو استاد مقرر ہوئے ان کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہی حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب بھی اس میں مدرس ہو گئے۔"شاخ دینیات " میں پنجم پرائمری پاس طلبہ داخل کئے جاتے تھے۔اس کی پہلی جماعت میں ۱۰ طلب داخل ہوئے جس کا اسی سال امتحان ہوا۔اور ان میں سے نو پاس قرار دئے گئے۔علاوہ ازیں پانچ طلبہ مزید داخل ہوئے اس طرح ۱۹۰۶ ء میں پہلی اور دوسری جماعت کے طلبہ کی مجموعی تعداد ۱۴ ہو گئی۔جماعت اول کے دینیات کا نصاب یہ تھا۔ترجمہ قرآن شریف ، بلوغ المرام ، رسالہ جات عربی شائع کرده انجمن حمایت اسلام مفتاح الادب، بد تہ الصرف، دروس النحویہ۔اس کے علاوہ طب اور انگریزی بھی پڑھائی جاتی تھی مگر یہ لازمی مضامین نہیں تھے۔بعض طلبہ طب پڑھتے تھے اور بعض انگریزی طب میں " تشریح الطب" اور "طب احسانی " پڑھائی جاتی تھیں اور انگریزی کا ہی کورس - تھا جو اول مڈل کے لئے ان دنوں مقرر تھا۔انگریزی پڑھنے کے لئے طلبہ کو ٹال کی کلاس میں جانا پڑتا