تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 415
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۴۱۴ مدرسہ احمدیہ کی بنیاد آغاز سال ۱۸۸۶ء میں صرف حبتہ اللہ کا جوش آپ کو کشاں کشاں یہاں لایا تھا اور آپ پا پیادہ افتاں خیزاں اس قدر دور فاصلہ سے پہلے قادیان پہنچے تھے اور جب ہم کو اس جگہ نہ پایا تو اسی بے تابی و بے قراری کے جوش میں نگاہو کر کے پیدل ہی ہمارے پاس ہوشیار پور جاپہنچے تھے۔اور جب وہاں سے واپس ہونے لگے تو اس وقت ہم سے جدا ہونا آپ کو بڑا شاق گزرتا تھا۔" ازاں بعد آپ کی وفات پر فرمایا۔”مولوی صاحب ایک صوفی مشرب آدمی تھے۔اکثر فقراء اور بزرگوں کی خدمت میں جایا کرتے تھے۔مولوی عبداللہ صاحب کے استاد کے پاس بھی ایک مدت تک رہے تھے۔ان کو ایک نقر کی چاشنی تھی۔قریباً بائیس برس سے میرے پاس آیا کرتے تھے۔پہلی دفعہ جب آئے تو میں ہوشیار پور میں تھا۔اس جگہ میرے پاس پہنچے۔ایک سوزش اور جذب ان کے اندر تھا اور ہمارے ساتھ ایک مناسبت رکھتے تھے۔انہوں نے مجھ سے ایک دفعہ قرآن شریف پڑھنا شروع کیا تھا مگر صرف چند سطریں پڑھی تھیں۔ایک صوفیانہ مذاق رکھتے تھے۔" r ایک عظیم الشان درس گاہ مدرسہ احمدیہ کی بنیاد حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور حضرت مولوی برہان الدین صاحب رضی اللہ عنہما کی وفات سے جماعت میں جو زبر دست خلاء پیدا ہو گیا اس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بہت تشویش ہوئی اور حضور کا ذہن خدائی تصرف کے تحت اس طرف منتقل ہوا کہ آئندہ جماعت میں قادر الکلام اور خدمت دین کرنے والے علماء پیدا کرنے کا کوئی مستقل انتظام ہونا چاہئے۔چنانچہ حضور نے ۶ / دسمبر ۱۹۰۵ء کو فرمایا کہ ہماری جماعت میں سے اچھے اچھے لوگ مرتے جاتے ہیں۔چنانچہ مولوی عبد الکریم صاحب جو ایک مخلص آدمی تھے اور ایسا ہی اب مولوی برہان الدین صاحب جہلم میں فوت ہو گئے۔اور بھی بہت سے مولوی صاحبان اس جماعت میں فوت ہوئے مگر افسوس کہ جو مرتے ہیں ان کا جانشین ہم کو کوئی نظر نہیں آتا۔پھر فرمایا مجھے مدرسہ کی طرف دیکھ کر بھی رنج ہی پہنچتا ہے کہ جو کچھ ہم چاہتے تھے وہ بات اس سے حاصل نہیں ہوئی۔اگر یہاں سے بھی طالب علم نکل کر دنیا کے طالب ہی بنے تھے تو ہمیں اس کے قائم کرنے کی ضرورت ہی کیا تھا۔ہم تو چاہتے ہیں کہ دین کے لئے خادم پیدا ہوں۔احباب سے مشورہ چنانچہ حضور نے اس صورت حال کا جائزہ لینے اور مزید اصلاحی قدم اٹھانے کے لئے بہت سے احباب بلا کر ان کے سامنے یہ امر پیش فرمایا کہ "مدرسہ ( تعلیم الاسلام) میں ایسی اصلاح ہونی چاہئے کہ یہاں سے واعظ اور علماء پیدا ہوں جو آئندہ ان لوگوں کے قائم مقام ہوتے رہیں جو گزرتے چلے جاتے ہیں۔سب سوچو کہ اس مدرسہ کو ایسے رنگ