تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 373
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۷۰ فرنيا الكون اور حضور کے ہمراہیوں کو کھانا پیش کیا گیا۔گاڑی لاہور سے روانہ ہو کر بٹالہ پہنچی۔اسٹیشن سے اترتے ہی جماعت بٹالہ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضور کے خدام کی دعوت کی اور سرائے متصل اسٹیشن میں قیام کا انتظام کیا۔قادیان سے بہت سے خدام بٹالہ پہنچ گئے تھے۔حضرت اقدس اور حضور کے دوسرے خدام ۱۴ نومبر ۱۹۰۴ء بروز اتوار ۱۲ بجے کے قریب بخیرت قادیان دار الامان میں پہنچ گئے۔حضور کی واپسی اور داخلہ دار الامان پر حافظ روشن علی صاحب ( تلمیذ حضرت حکیم الامت مولوی نور الدین) نے خیر مقدم کے طور پر ایک عربی قصیدہ لکھا جس کے چند اشعار یہ تھے جاءَ الإمامُ فَابْشِرُوا يَا اخْوَتِي قوموا التى استقباله يا حبتي يَا مَنْ دَعوتَ النَّاسَ وَقتَ هَلَاكِهِمْ دَعْوَى الْمُحِب إِلَى جِنَانَ النِّعْمَةِ أعْطِيتَ مِنْ رَبِّ السَّمَاءِ رِسَالَهُ تُوجَتَ مِن مَولَاكَ تَاجَ الْعِزَّةِ يا قَمْرَ أَرْضِ الْهِنْدِ نَورُ أَرْضَنَا سَرَاج قُلُوبِنَا بِالْمِنَّةِ اشرج (ترجمہ) اے میرے بھائیو! تمہیں خوشخبری ہو کہ حضرت امام تشریف لے آئے ہیں۔میرے پیار و اٹھو ان کے استقبال کو چلیں۔اے وہ جس نے لوگوں کی ہلاکت کے وقت پیار کرنے والوں کی طرح نعمت کے باغوں کی طرف دعوت دی ہے۔تجھے آسمان کے رب کی طرف سے رسالت عطا کی گئی ہے اور تیرے مولیٰ نے تجھے عزت کا تاج پہنایا ہے۔اے سر زمین ہند کے چاند ! ہماری زمین کو روشن کر اور ہمارے دل اپنے احسان سے منور کر حضرت اقدس کی تقریریں جلسہ سالانہ ۱۹۰۴ء کے موقعہ پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو پر معارف تقریریں فرما ئیں وہ بعد کو حضرت اقدس" کی تقریریں" کے نام سے شائع کی گئیں۔ان تقاریر میں حضور نے