تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 372 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 372

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۶۹ خر سیالکوٹ گیا اور وہ کثرت سے حضور کی بیعت میں شامل ہوئے۔کئی بار بیعت ہوئی اور حضور حسب معمول بیعت کے بعد لوگوں کو نصائح فرماتے رہے کہ " اس بیعت کی اصل غرض یہ ہے کہ خدا کی محبت میں ذوق و شوق پیدا ہو اور گناہوں سے نفرت پیدا ہو کر اس کی جگہ نیکیاں پیدا ہوں۔" بیعت کا سلسلہ حضور کی روانگی تک برابر جاری رہا۔سیالکوٹ کی جماعت کے لئے حضرت اقدس کی جدائی شاق تھی مگر مجبور تھے۔دار الامان کو روانگی دوسرے دن ۱۳/ نومبر کو جماعت سیالکوٹ نے 10 بجے تک کل مہمانوں کو کھانا کھلا کر فارغ کر دیا اور رخت سفر بندھنے لگا۔سب سے پہلے مستورات کو حضرت میر ناصر نواب صاحب کے زیر انتظام اسٹیشن پر پہنچا دیا گیا۔حضرت اقدس بارہ بجے کے قریب باہر تشریف لائے اس وقت بھی زائرین کے اشتیاق کی وہی کیفیت تھی جو پہلے سے طاری تھی۔جیسے شمع پر پروانے گرتے ہیں اس طرح مخلوق کرتی تھی۔میاں نیاز علی کی درخواست پر حضور دوبارہ ان کے گھر کو برکت دینے کے لئے تشریف لے گئے اور پھر گاڑی پر سوار ہو گئے اور جلوس کی شکل میں پوری شان کے ساتھ اسٹیشن تک پہنچے اور ایک ریز رو گاڑی میں تشریف فرما ہوئے اور دوسرے خدام دوسری گاڑی میں بیٹھے۔حضور کے الوداع کے لئے اسٹیشن پر زائرین کا بہت بڑا مجمع موجود تھا۔علماء جو مخالفانہ وعظ کر رہے تھے اس کا ایک نتیجہ اس وقت یہ بر آمد ہوا کہ بعض مخالفوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اہل بیت کے سامنے برہنہ تاچ کیا۔چنانچہ اخبار اہلحدیث نے 11 / نومبر ۱۹۰۴ء کی اشاعت میں لکھا۔مسلمانوں نے قادیانی کرشن جی کی مہما میں اپنے اسلامی اخلاق کو بھی بالائے طاق رکھ دیا۔چلتی گاڑی کے وقت اسٹیشن سے ایک طرف پردہ باندھ کر کھڑے ہو گئے اور مرزا صاحب کی مستورات کے سامنے جوش جنوں میں ننگے ہو کرنا چتے رہے۔تاہم یہ حرکت اسلامی اخلاق سے بہت گری ہوئی ہے۔" گاڑی وزیر آباد اسٹیشن پر پہنچی تو زائرین کا پہلا سا ہجوم موجود وزیر آباد سے قادیان تک تھا۔حافظ غلام رسول صاحب نے حضور اور حضور کے ساتھیوں کی لیمونیڈ اور سوڈا واٹر سے دعوت کی۔اسٹیشن پر ڈسکہ کے مشنری پادری اسکاٹ نے بھی ملاقات کی اور حضور نے ان سے تبادلہ خیالات فرمایا۔گاڑی ہی میں بہت سے آدمیوں نے بیعت توبہ کی۔حضور کی ریزرو گاڑی گورداسپور کی گاڑی سے لگائی گئی۔کچھ دیر بعد گاڑی روانہ ہو گئی۔واپسی پر ہر اسٹیشن پر وہی مجمع اور وہی رونق تھی جو آمد کے موقعہ پر دکھائی دی تھی۔گاڑی مغرب کے بعد لاہور پہنچی جہاں جماعت لاہور نے استقبال کیا اور ڈاکٹر سید محمد حسین صاحب کی طرف سے حضرت اقدس