تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 366 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 366

یخ احمدیت۔جلد ۲ ہیں ہمیں نہ ہٹاؤ۔فرودگاه سفر سیالکوٹ حضور کے قیام کے لئے جناب حکیم میر حسام الدین صاحب کا ایوان تجویز ہوا۔چنانچہ حضور وہیں فروکش ہوئے۔یہ وہی محلہ تھا جس میں حضور انتہائی گمنامی کی حالت میں قریباً چالیس برس پیشتر زمانہ ملازمت کے دوران قیام پذیر رہے۔حضور کے علاوہ باقی خدام اور مہمانوں کے لئے حکیم صاحب کے محلہ میں کچھ ایسے انداز سے ملتے جلتے مکان خالی کرائے گئے تھے کہ وہ سارا محلہ جہاں یہ مہمان فروکش تھے ایک محلہ کی بجائے ایک ہی مکان کا حکم رکھتا تھا۔جماعت سیالکوٹ کی وسیع پیمانے پر مہمان نوازی اس موقعہ پر جماعت سیالکوٹ نے حضور کے اس تاریخی سفر کے موقعہ پر مہمانوں کی آمد کا اندازہ کر کے بڑے وسیع پیمانے پر مہمان نوازی کا انتظام کر رکھا تھا اور حضور اور حضور کے مہمانوں کی تواضع ، دل جوئی اور آرام میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا۔انہوں نے اپنے گھر مہمانوں کے لئے خالی کر دیے۔ہر مکان میں ضروری سامان پہلے سے مہیا کر دیا۔کوئی کمرہ یا کو ٹھری ایسی نہ تھی جس میں روشنی اور پانی کا کافی انتظام نہ ہو۔بیماروں کے لئے الگ کھانا تیار ہو تا تھا۔بازار میں عطاروں کی دکانیں مخصوص کر دی تھیں جہاں سے مریض ہر وقت جو دوا چاہیں مفت لے سکتے تھے۔حضور کے تشریف لاتے ہی مہمانوں کی کثرت بڑھتی گئی اور ہر آنے والی ٹرین مہمانوں کی ایک معقول تعداد لانے کا موجب بن رہی تھی مگر اہل سیالکوٹ کی میزبانی میں کوئی فرق نہیں آیا وہ برابرا هلا وسهلا و مرحبا کہنے کو تیار تھے۔۲۸/ اکتوبر کو جمعہ تھا۔حضرت مسیح موعود کی تقریر ۲۸/ اکتوبر ۱۹۰۴ء کو جمعہ کے بعد اس دن لوگ نهایت کثرت سے اس مسجد میں جو حضور کی فرودگاہ سے بالکل ملی ہوئی تھی اور میر حکیم حسام الدین صاحب کی مسجد کہلاتی ہے وقت مقررہ سے پہلے ہی جمع ہو گئے۔مولوی عبدالکریم صاحب نے (جو کئی دن قبل ہی سیالکوٹ میں تشریف لے آئے تھے) سورہ جمعہ پر خطبہ پڑھا اور نماز جمعہ پڑھائی۔نماز جمعہ کے بعد بہت سے اصحاب نے بیعت کی۔یہ نا ممکن تھا کہ سب لوگ حضور کے دست مبارک پر ہاتھ رکھ کر بیعت کرتے اس لئے بارہ پگڑیاں مختلف سمتوں میں ڈال دی گئیں۔اس طرح مختلف جماعتوں نے بیعت تو بہ کی۔بیعت کے بعد حضور نے ایک پر جذب و تاثیر تقریر فرمائی جس میں حضور نے بیش قیمت نصائح فرما ئیں اور اپنے دعوی کی صداقت پر روشنی ڈالی۔