تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 367
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ لام خر سیالکوٹ حضور اس روز کافی دیر تک انبوہ خلائق میں تشریف فرمار ہے اور تقریر کی وجہ سے واپسی کا ارادہ حضور کی طبعیت دوران سرو غیرہ سے ناساز ہو گئی اور آپ ۳۰٬۲۹ اکتوبر کو باہر نہ تشریف لا سکے۔اس سلسلہ میں مہمانوں کی اور بھی کثرت ہو گئی اس لئے حضور کو خیال پیدا ہوا کہ یہ کثرت جماعت سیالکوٹ کے لئے ابتلا کا موجب نہ بن جائے لہذا حضور نے ۳۱ / اکتوبر کو واپسی کا ارادہ فرمایا۔واپسی کی خبر پر مخلصین سیالکوٹ کے ہوش اڑ گئے۔پاس ادب سے کچھ عرض کر نیکی جرات نہ کرتے تھے۔دل تھا کہ اندر ہی اندر بیٹھا جاتا تھا۔حیران تھے کہ کریں تو کیا کریں۔میر حکیم حسام الدین صاحب نے حضور کے اس ارادہ کو بہت ہی محسوس کیا اور پیرانہ سالی میں اس سے بہت ہی مضمحل ہو کر حضور کی خدمت میں اس ارادہ کے التواء کے لئے عرض کیا اور سامان خوردو نوش کی کثرت کا ذکر کیا۔جس پر حضور نے اپنا ارادہ ۳/ نومبر تک ملتوی فرما دیا۔لیکچر کا ارادہ اب اس التواء ارادہ اور قیام سہ روزہ میں ۳۱ / اکتوبر کو تجویز ہوئی کہ حضور کی طرف سے اسلام پر ایک پبلک لیکچر دیا جاوے۔حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی غرض و مقصد زندگی احیائے اسلام و تبلیغ اسلام ہی تھا۔چنانچہ حضور نے ضعف اور دورہ مرض کے باوجود یہ امر پسند فرمایا اور ۲ / نومبر ۱۹۰۴ء کو یہ لیکچر دیا جانا تجویز ہوا۔دو تین دن کے قلیل عرصہ میں لیکچر کا تیار کرنا آسان امر نہیں تھا لیکن خدا کی تائید اور نصرت جس شخص کے شامل حال ہو وہ سب تکلیفوں اور مشکلات پر فتح پالیتا ہے۔زیارت کے لئے بیتانی ۱۳۱ اکتوبر تک حضور باہر تشریف نہ لاسکے اور اس عرصہ میں زائرین بیقرار و مضطرب ہو کر دیوانہ وار آپ کے ایوان کے نیچے بند کوچہ میں پھر رہے تھے اور کسی نہ کسی طرح چاہتے تھے کہ زیارت ہو جاوے مگر حضور کی ناسازی طبع اس پر بیعت کا سلسلہ پھر مضمون لیکچر لکھنے کا ارادہ سب باتیں مل ملا کر انہیں مایوس کر رہی تھیں۔اور جوں جوں دیر ہوتی تھی اس قدر جوش زیارت بڑھتا جاتا تھا۔آخر اس بڑھے ہوئے اضطراب اور جذبہ عشق نے اپنا کام کیا اور حضور کی خدمت میں عرض کیا گیا کہ حضور کی زیارت کے لئے بہت لوگ جمع ہیں اور سخت گبھرائے ہوئے ہیں۔یہ ۳۱ / اکتوبر کا دن اور بعد دوپہر کا وقت تھا۔حضور نے فرمایا کہ میں نے ابھی مضمون بھی شروع نہیں کیا اب میرا ارادہ ہے کہ اسے لکھوں اور بیعت کا سلسلہ بھی کثرت سے جاری ہے۔اگر میں نیچے اتروں گا تو پھر مضمون رہ جائے گا۔اس پر عرض کیا گیا کہ حضور صرف دو ایک منٹ کے لئے دریچہ میں رونق افروز ہوں لوگ گلی میں کھڑے ہو کر زیارت کر لیں۔چنانچہ حضور کوئی ایک منٹ کے لئے دریچہ میں تشریف فرما رہے۔اس وقت کو چہ سے لے کر بازار تک اور مسجد اور