تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 365 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 365

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ سفر سیالکوٹ کی۔گاڑی کافی دیر ٹھہرنے کے بعد سیالکوٹ کی طرف روانہ ہو گئی چونکہ کثرت مخلوق اور ہجوم میں بہت سے لوگوں کو حضرت اقدس سے مصافحہ کرنے کا شرف نہ مل سکا اس لئے اکثر احباب ساتھ ہی گاڑی میں سوار ہو گئے اور سیالکوٹ اور وزیر آباد کے درمیان اسٹیشنوں پر جہاں جہاں جس کو موقع ملا اس سعادت سے بہرہ اندوز ہوا۔سیالکوٹ میں ورود آخر گاڑی سوہدرہ اور دوسرے اسٹیشنوں سے ہوتی ہوئی سیالکوٹ اسٹیشن پر چھ بجے کے بعد پہنچی جب کہ آفتاب غروب ہو چکا تھا اور تاریکی اپنا اثر سطح زمین پر ڈال رہی تھی۔ایسے وقت میں لوگوں کا اسٹیشن پر پہنچنا بڑا مشکل تھا اور اسی لئے جماعت سیالکوٹ نے صبح کی گاڑی کا پروگرام تجویز کیا تھا۔سیالکوٹ کے علماء ایک ہفتہ سے وعظ کر رہے تھے کہ کوئی شخص مرزا صاحب کو دیکھنے کے لئے اسٹیشن پر نہ جائے ورنہ اس کی بیوی پر طلاق واقع ہو جائے گی لیکن ان مخالفتوں اور سراسر نا موافق حالات کے باوجو د سیالکوٹ کے لوگ ایسے کھینچے گئے کہ رک سکتے ہی نہیں تھے۔جس طرف نظر جاتی تھی آدمی ہی آدمی دکھائی دیتے تھے جو حضرت اقدس کے جذب و کشش اور راستبازی اور حقانیت کا ایک عظیم الشان ثبوت تھا۔اسٹیشن پر اس قدر انبوہ تھا کہ اگر مقامی حکام اور سپر نٹنڈنٹ پولیس کی طرف سے امن کا تسلی بخش انتظام نہ کیا جاتا توکئی حوادث کا ہوتا بالکل ممکن تھا۔آنریری مجسٹریٹ سیالکوٹ سردار محمد یوسف صاحب خاص طور پر شکریہ کے مستحق تھے کہ وہ ہمہ تن انتظام میں مصروف رہے۔مقامی جماعت نے اس پلیٹ فارم پر جہاں ریزرو گاڑیاں کھڑی ہو ئیں (اور جو احاطہ اسٹیشن کے دوسری طرف سرائے مہاراجہ صاحب جموں و کشمیر کے متصل لب سڑک واقع ہے) روشنی کا عمدہ انتظام کر رکھا تھا۔حضور کی آمد پر بطور خیر مقدم مہتابیاں بھی چھوڑی گئیں۔شہر کی طرف روانگی کا نظارہ پلیٹ فارم کا ریز رو گاڑی والا حصہ بالکل خالی کرالیا گیا اور معین گاڑی کے دروازے پر حضور کی سواری کے لئے گاڑی لا کر کھڑی کر دی گئی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت ام المومنین اور دو سرے افراد خاندان جدا جدا گاڑیوں میں سوار ہو گئے اور یہ شاندار جلوس پولیس اور مقامی حکام کے انتظام کے ساتھ شہر کی طرف روانہ ہوا۔گاڑیوں کے آگے مہتابیاں چھوڑی جاتی تھیں۔اسٹیشن سے فرودگاہ تک دکانوں“ مکانوں کی چھتوں اور بازار میں آدم زاد کے سوا اور کچھ نظر نہیں آتا تھا۔خدا کا جری ایک کھلی گاڑی میں بیٹھا ہوا اس انبوه و اثر دھام میں جا رہا تھا اور لوگ اس کے دیدار کے لئے بھاگے جارہے تھے۔اور یہ عجیب بات تھی کہ بعض لوگ باوجودیکہ وہ مخالف تھے محض زیارت کے لئے یہ کہتے تھے کہ ہم تو مرید