تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 364
تاریخ احمدیت جلد ۲ سفر سیالکوٹ اٹاری اسٹیشن اس دن ریلوے لائن کے ارد گرد کے دیہات میں خود بخود ایسی رو چلی ہوئی تھی کہ ہر معمولی اسٹیشن پر زائرین کا ہجوم ہو تا تھا چنانچہ اٹاری اسٹیشن پر بھی غیر معمولی مجمع تھا۔اٹاری کے احمدی بھائیوں نے اپنے سید و مولی امام کے حضور دودھ پیش کیا اور ساتھ ہی ٹکٹ لے کر خود بھی سوار ہو گئے۔میاں میرا سٹیشن ایک بجے کے بعد گاڑی میاں میرا سٹیشن پر پہنچی۔اناری کی جماعت یہاں اتر کر دوسری گاڑی میں واپس ہوئی۔یہاں بھی بعض مخلصین زیارت سے مشرف ہوئے۔لاہور اسٹیشن لاہور ریلوے اسٹیشن پر اس کثرت سے اژدھام تھا کہ وہاں کے پیسہ اخبار کو بھی مخالفت کے باوجود اس کا اعتراف کرنا پڑا۔حالانکہ بہت سے لوگوں کو اندر آنے سے روکا گیا اور پلیٹ فارم ٹکٹ بھی بند کر دئے گئے۔یہاں چونکہ گاڑی کو ذرا زیادہ دیر تک ٹھہرنا تھا اس لئے لاہور کی احمدی جماعت کو ملاقات کا اچھا موقع میسر آیا۔۲ بجے کے قریب لاہور اسٹیشن کو بھی الوداع کہا۔گوجرانوالہ اسٹیشن گاڑی بادامی باغ سے ہوتی ہوئی بالا خر گو جرانوالہ پہنچی۔یہاں بھی حضور کے استقبال کے لئے کثیر تعداد میں لوگ موجود تھے جن کی تعداد سات آٹھ سو سے کم نہ تھی۔احمدی احباب نے مصافحہ کیا۔وقت معینہ پر گاڑی گوجرانوالہ سے چل کے گکھڑ آئی۔اس جگہ بھی پچاس سے زیادہ احباب شوق زیارت میں آئے ہوئے تھے۔جس ذوق و شوق اور جوش و اخلاص سے یہ لوگ آتے اور گاڑی کی طرف لپکتے اور دوڑتے تھے وہ دیکھنے کی چیز تھی۔تھوڑی دیر کے بعد گاڑی وزیر آباد کھڑی ہو گئی۔وزیر آباد اسٹیشن وزیر آباد جنکشن ہے جہاں سے سیالکوٹ کی طرف گاڑی جاتی ہے۔سیالکوٹ یہاں سے قریباً ایک گھنٹہ کی مسافت پر ہے۔وزیر آباد اسٹیشن پر بھی اس کثرت سے مجمع زائرین موجود تھا کہ دیکھنے والوں کو حیرت ہوتی تھی کیونکہ مقامی جماعت تو بہت تھوڑی تھی اور حافظ عبد المنان صاحب جیسے مخالف سلسلہ یہاں موجود تھے مگر اس کے باوجود لوگوں کے اشتیاق کا یہ عالم تھا کہ جب حضور کی ریزرو گاڑیوں کو کاٹ کر سیالکوٹ جانے والی ٹرین کے ساتھ لگانے کے لئے دور نالہ پلکھو کے پل تک لے جانا پڑا تو ریز رو گاڑی کے ساتھ ساتھ دونوں طرف مخلوقات دیوانہ دار بھاگتی چلی گئی۔آخر حضور کی ریزرو گاڑیاں سیالکوٹ ٹرین سے لگا دی گئیں اور لوگوں کا ہجوم بدستور رہا۔وزیر آباد کے احباب جماعت نے حضور اور حضور کے ہمرایوں کی سوڈا واٹر سے تواضع