تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 350
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۳۴۷ ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت " کے متعلق پیشگوئی ماموریت کا تیسواں سال ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت" کے متعلق پیشگوئی (۱۹۰۴ء) ۱۸۹۴ء کی چین اور جاپان کے درمیان جنگ کے بعد روس جرمنی اور فرانس کی مداخلت نے جاپان کو کو ریا پر قبضہ جمانے سے محروم کر دیا تھا۔روس مانچوریا اور جزیرہ لیاؤ ٹونگ پر قبضہ جمالینے کے بعد کو ریا میں بھی نفوذ حاصل کرنے کا متمنی تھا۔جاپان کو ریا کے بدلے مانچوریا پر روس کا حق ماننے کو تیار تھا۔مگر روس نے یہ بات نہ مانی اس لئے جاپان کے شہنشاہ میکاڈو نے ۶ / فروری ۱۹۰۴ء کو روس کے خلاف اعلان جنگ کر دیا۔ابھی یہ لڑائی شروع ہی ہوئی تھی اور ابھی جاپان نے کوئی میدان نہیں مارا تھا کہ حضرت اقدس کو الہام ہو ا " ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت۔" اس الہام میں یہ واضح خبر دی گئی تھی کہ ا۔دوسری طاقتوں کے مقابل ایک خاصی زبر دست طاقت مشرق میں ظاہر ہوگی۔کو ریا کی حالت نازک ہو جائے گی۔چنانچہ اس الہام کے بعد اس جنگ میں روس کو پے درپے شکستیں ہو ئیں اور جاپان کا کوریا پر مکمل قبضہ ہو گیا اور جاپان دنیا میں " مشرقی طاقت " شمار ہونے لگا۔ایک پاکستانی وقائع نگار لکھتا ہے " اس جنگ میں جاپان نے ثابت کر دیا کہ عسکری تنظیم ، جنگی صلاحیت، فوجوں کی قیادت اور جنگی چالوں میں جاپان کی تیاری یورپ کے ملکوں کی تیاریوں سے کسی لحاظ سے بھی کم نہیں۔روس کو بالآخر ہار مانی پڑی اور امریکہ کی مداخلت سے روس اور جاپان کے درمیان پورٹس ماؤتھ کا معاہدہ طے ہوا جس کی رو سے روس نے لیا ؤ ٹونگ کا علاقہ جاپان کو دے دیا۔کو ریا پر جاپان کی سیادت کا مکمل حق تسلیم کرلیا۔پورٹس