تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 349
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۳۴۶ کابل میں حضرت سید عبد اللطیف صاحب کی درد ناک شہادت رہے۔آپ نے چوہدری غلام محمد صاحب بی۔اے سیالکوٹی کے ساتھ مل کر مشہور عربی لغت "المنجد " کا اردو ترجمہ بھی کیا ہے جو تسهیل العربیہ " کے نام سے چھپا ہو ا موجود ہے۔(وفات ۱۳- جون کے ۱۹۲ء) حکیم محمد چراغ الدین صاحب منشی عبد الحق صاحب خوشنویس کے والد اور مکرم ابو المنیر مولوی نور الحق صاحب کے دادا تھے۔نشی عبد الحق صاحب کو خدا تعالٰی نے ۱۸۹۷ء میں بیعت کی توفیق دی۔حضرت حکیم صاحب متعدد بار قاریان گئے۔لیکن بیعت کے لئے انشراع نہ ہوا۔آخر جب سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام جہلم کرم الدین کے مقدمہ کے سلسلہ میں تشریف لے گئے تو وہاں حکیم صاحب نے پہنچ کر بیعت کی۔حضرت حکیم صاحب پابند صوم صلوۃ۔قرآن مجید کے عاشق تھے اور خدمت خلق ان کے دل کی تسکین تھی۔سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے متعدد خطبات میں ان کی حضور ایدہ اللہ سے قادیان میں پہلی ملاقات کا ذکر ان الفاظ میں فرمایا ہے۔ہمارے مولوی نور الحق صاحب کے دادا بھی ایسے لوگوں میں سے تھے یعنی لمبی عمر پانے والے۔حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی جن دنوں فالج کے حملہ سے بیمار تھے اسی سال خدام الاحمدیہ کا دفتر ین رہا تھا۔میں وہ دفتر دیکھنے جارہا تھا۔میں نے دیکھا کہ ایک آدمی بڑا تیز تیز چل کر میری طرف آرہا ہے۔وہ مجھے ملا اور اس نے مجھ سے مصافحہ کیا میں نے دریافت کیا کہ آپ کا کیا نام ہے؟ انہوں نے اپنا نام بتایا اور کہا میں گجرات سے آیا ہوں۔پھر انہوں نے پنجابی زبان میں کہا۔میر ا غلام رسول و زیر آبادی کہلاند ائے میں اس واحال پوچھنے آیا ہوں۔یعنی غلام رسول وزیر آبادی جو کہلاتے ہیں ان کا حال دریافت کرنے آیا ہوں۔حافظ غلام رسول صاحب ہماری جماعت میں بہت بڑے محترم سمجھے جاتے تھے مگر انہوں نے اس بے تکلفی سے ان کا نام لیا تو میں نے پوچھا کہ حافظ صاحب سے آپ کا کیا رشتہ ہے۔انہوں نے بتایا کہ وہ میرے بھتیجے ہیں۔میں نے کہا معلوم ہوتا ہے آپ کے والد نے آخری عمر میں دوسری شادی کی تھی جس سے آپ پیدا ہوئے اس لئے آپ کی عمران سے چھوٹی معلوم ہوتی ہے۔اس پر وہ کہنے لگے کہ جنوں غلام رسول دی او دا ویاہ ہو یاس میں اٹھارہ سال دا ساں۔بعد میں وہ ۳- ایا ہے - اسال کی عمر میں فوت ہوئے اور وہ اس عمر میں خوب چل پھر لیتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ میں ہیں ہیں پچیس پچیس میل پیدل چلا جاتا ہوں۔" ( الفضل ۱۴ دسمبر ۱۹۵۶ء) آپ کی وفات ۷ / اکتوبر ۱۹۴۲ء کو ہوئی۔سید نا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالی نے نماز جنازہ پڑھائی اور آپ بہشتی مقبرہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار کے مشرقی جانب واقعہ احاطہ قبور میں دفن کئے گئے۔انہوں نے ارجون ۱۹۰۳ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں اپنی ارادت و عقیدت کا ایک خط بھی لکھا تھا جس کا عکس ” خلافت لائبریری ربوہ میں محفوظ ہے اور حضرت مصلح الموعود کی تالیف مسئلہ وحی و نبوت کے متعلق اسلامی نظریہ" کے صفحہ ۳۶ پر بھی چھپ چکا ہے اور تاریخ احمدیت جلد ۱۶ صفحه ۳۹۶ پر بھی ولادت ۱۳۵۵ در ۴۰-۱۸۳۹ء)۔میر احمد خان دو تم بادشاہ اور نگ زیب کے ہمعصر اور قلات میں پرا ہوئی سلطنت - ت کے بانی تھے۔میر خدا داد خان صاحب اسی مرد جری کی نسل میں سے تھے۔آپ کے والد کا نام میر محراب ، خال دوم تھا آپ غدر ۱۸۵۷۰ء کے دوران تخت نشین ہوئے اور سترہ سال تک خطرات میں محصور رہے اور قبائلی سرداروں کی لگا تار بغاوتوں کو فرو کرتے رہے۔آپ کی شاہی انگشتری میں خدادادگان را خدادارہ " اور " دین و دنیا مرا خدادا دست" کے الفاظ نقش تھے آپ واحد خان تھے جنہوں نے ریاست میں با قاعدہ فوج اور مرکزی خزانہ کی ضرورت محسوس کی۔زمانہ حال کے بعض مورخین کے نزدیک " ہمت، استقلال ، خلوص، فراست رقابت اور بربریت آپ کی سیاسی کشتی کے چوتھے۔آپ نماز اور دیگر مذہبی فرائض کی ادائیگی بہت التزام و اہتمام سے کرتے تھے اور عالمانہ مذاق رکھتے تھے۔آپ ۳۷ سال تک حکمران رہے۔اور بلوچستان کے انگریز ایجنٹ گورنر جنرل کی سازش سے مارچ ۱۸۹۲ ء میں معزول کر دئیے گئے اور تا جشاہی اگلے سال ۱۰مر نومبر ۱۸۹۳ء کو ان کے بیٹے محمود خان کو پہنا دیا گیا۔آپ نے ۲۰ مئی ۱۹۰۹ء کو پشین میں داعی اجل کو لبیک کہا اور اسی جگہ سپر د خاک کئے گئے۔آپ ایک عام مشتی گنبد کے نیچے ایک سادہی قبر میں مدفون دمکنون ہیں۔ماخذ۔۱۔تاریخ بلوچستان صفحه ۱۳۰ / ۱۳۱ مصنفہ رائے بہادر ہو ر ام طبع اول ۱۹۰۷ طبع دوم ۱۹۸۵ء تاشر سنگ میل پبلی کیشنز اردو بازار لا ہور۔۔بلوچ قوم کی تاریخ حصہ اول صفحہ ۱۷۴ ۲۵۷۲ مصنف محمد سردار خاں بلوچ۔ترجمہ پروفیسر ایم انور روماں ڈائر یکٹر بیورو آف کریکولم بلوچستان ناشر نساء، ٹریڈرز جناح کلاتھ مارکیٹ کو سٹے طبع اول فروری ۱۹۸۰ء مؤخر الذکر کتاب کا انگریزی ایڈیشن ۱۹۵۸ء میں درج ذیل نام سے شائع ہوا۔"History of Baluchrace and Baluchistan"