تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 348
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۳۴۵ کامل میں حضرت سید عبد اللطیف صاحب کی درد ناک شہادت خدا کی شان !! کسے خبر تھی کہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئی پر بھی نصف صدی ہی گزرنے پائے گی کہ لندن کا عالم گیر ریڈیو دنیا بھر میں مسیح کی وفات کا اعلان نشر کرنا شروع کر دے گا۔یہ دشمنوں کے قتل کرنے اور جنگ کرنے کا وقت نہیں دعا کرنے کا وقت ہے۔(ترجمہ) ۴۱ البدر ۲۳ اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۱۷-۲۹٬۳۱۸ / اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۲۲-۳۲۳ البدر ۲۹/ اکتوبر د ۸/ نومبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳۲۱) ایضاً حقیقه الوحی صفحه ۲۱۹ نشان نمبر ۲۴ طبع اول ۱۵ مئی ۱۹۰۷ء ۴۳- ولادت ۷۶-۱۸۷۵ء وفات ۱۳ جولائی ۱۹۳۳ء جنوری فروری ۱۹۰۳ء میں قادیان جاکر حضرت اقدس کے ہاتھ پر بیعت کی۔حضور نے بیعت لینے کے بعد فرمایا کہ فکر نہ کریں۔آپ کے ہاں اللہ تعالی بہت جلد جماعت پیدا کر دے گا۔سو یہ پیشگوئی حرف بحرف پوری ہوئی اور تھوڑے ہی عرصہ میں جماعت کریام کی تعداد سینکڑوں تک پہنچ گئی۔حاجی صاحب سلسلہ کی خاطر مالی اور جانی قربانیوں میں ہمیشہ پیش پیش رہتے تھے (الحکم ۱۴/۷ نومبر ۱۹۴۰ء) مفصل حالات کے لئے ملاحظہ ہو " اصحاب احمد " جلد دہم صفحہ ۷۵ تا ۱۳۲) -۴۴ بیعت ۳ اکتوبر ۱۹۰۳ء حضرت خلیفہ اول کے عہد مبارک میں قادیان آئے قریباً اہم سال تک آسٹریلیا آنریری طور پر نهایت درجہ اخلاص و محنت سے مبلغ اسلام کے فرائض سر انجام دیتے رہے۔جزیرہ نجی میں بھی ان کے ذریعہ سے پیغام حق پہنچا ۱۸/ اگست ۱۹۴۵ء کو انتقال فرمایا۔(الفضل ۲۸ / دسمبر ۱۹۳۹ء صفحہ ۸۵ کالم نمبر۔۲ و رسالہ "اصحاب احمد " جلد دوم نمبر ۳ ۴ صفحه ۲۵ ریکارڈ بہشتی مقبرہ ربوہ) ۴۵- ولادت ۱۹/ اکتوبر ۱۸۸۳ء وفات ۱۸ / جون ۱۹۶۰ء۔حضرت خلیفہ المسیح لثانی ایدہ اللہ تعالی کے ہم مکتب تھے بدر کے جائنٹ ایڈیٹر بھی رہے۔اردو اور پنجابی زبان میں سلسلہ کی تائید میں نظمیں کہا کرتے تھے۔ہجرت کے بعد چنیوٹ میں آباد ہوئے اور یہیں انتقال فرمایا ( تفصیلی حالات کے لئے ملاحظہ ہو ا الحکم ہے۔نومبر ۱۹۳۲ء صفحہ ۱۳۔۱۳ و الحکم ۱۴/۷ اکتوبر ۱۹۳۵ء صفحہ ۷-۸) ولادت ۱۳/ مارچ ۱۹۰۳۶۱۸۸۹ء سے ۱۹۰۸ء تک مدرسہ تعلیم الاسلام میں تعلیم پائی اور حضرت مسیح موعود کے فیض صحبت سے فیضیاب ہوئے۔۱۹۰۸ میں گورنمنٹ کالج میں داخلہ لیا مگر 1910ء میں حضرت خلیفہ اول کے ارشاد پر آپ واپس قادیان آگئے اور حضرت خلیفہ اول کی شاگردی اختیار کر کے موطا امام مالک صحیح بخاری اور فوز الکبیر پڑھی۔عربی صرف و نحو اور اصول شاشی کا علم حضرت حافظ روشن علی صاحب سے حاصل کیا اور منطق کی تحصیل حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب طلا پوری سے کی۔۲۶/ جولائی ۱۹۱۳ء کو آپ اعلیٰ عربی تعلیم کے لئے بلاد عربیہ میں بھجوائے گئے اور آپ نے قاہرہ بیروت اور حلب کی مشہور درسگاہوں میں تکمیل تعلیم کی اور بیت المقدس کے صلاح الدین ایوبیہ کالج میں پروفیسر مقرر ہوئے۔نیز شام میں سلطانیہ کالج کے وائس پر نسل بھی ہے۔اس دوران آپ کو انگریزوں نے نظر بند کر دیا ور ۲۶/مئی ۱۹۱۹ء کو رہا ہو کر آپ قادیان پہنچے۔۲۷/ جون ۱۹۲۵ء کو آپ مولانا جلال الدین صاحب شمس کے ساتھ تبلیغی مبصرد مبلغ کی حیثیت سے بلاد شام کی طرف روانہ ہوئے جہاں چند ماہ گزارنے کے بعد آپ کو عراق میں بھجوایا گیا جہاں آپ نے امیر فیصل اور ہائی کمشنر سے احمدیت پر پابندی اٹھائے جانے کے بارہ میں ملاقاتیں کیں اور بالاخر اپنے مشن میں کامیاب ہو کر ۱۰ سرمئی ۱۹۲۶ء کو وارد قادیان ہوئے۔۱۹۳۱ء سے ۱۹۳۶ء تک ناظر دعوة تبلیغ رہے۔اسی دور میں آپ نے تحریک آزادی کشمیر میں بھی سرگرم حصہ لیا اور کا رہائے نمایاں سرانجام دیئے۔بعد ازاں ناظر تعلیم و تربیت کے عہدہ پر فائز ہوئے۔تمبر ۱۹۴۶ء سے اپریل ۱۹۴۸ء تک آپ بھارتی حکومت کی قید میں رہے بعد ازاں آپ ناظر دعوت و تبلیغ اور ناظر امور عامہ وغیرہ اہم عہدوں پر فائز رہنے کے بعد یکم جون ۱۹۵۴ء کو پنشن یاب ہوئے۔(وفات ۱۶- مئی (41971 آپ سلسلہ کے ان ممتاز علماء میں سے ہیں جو عربی زبان کے قادر الکلام ادیب ہیں۔" اسلامی اصول کی فلاسفی " کا ترجمہ آپ ہی نے کیا ہے جو بلاد عربیہ میں بہت مقبول ہے۔اردو اور عربی میں آپ کی متعدد تصانیف ہیں۔صحیح بخاری کے انیس جلدوں کی اردو شرح لکھ چکے ہیں جو " ادارۃ المصنفین ربوہ " کی طرف سے شائع کی جارہی ہے۔اب تک بارہ اجزاء شائع ہو چکے ہیں ۴۷۔من ولادت ۹۰ - ۱۸۸۹ء۔مارچ ۱۹۰۳ ء میں پہلی مرتبہ قادیان گئے۔حضرت حکیم الامت مولوی نور الدین خلیفتہ البیع الاول کے خاص شاگردوں میں سے ہیں۔آپ ایک لمبے عرصہ تک مدرسہ احمدیہ میں مدرس رہے اور سلسلہ کی تعلیمی خدمات بجالاتے