تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 325 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 325

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۳۲۲ کابل میں حضرت سید عبد اللطیف صاحب کی درد ناک سعادت ایک بے گناہ معصوم با وجود صادق ہونے کے باوجود اہل حق ہونے کے اور باوجود اس کے وہ ہزا رہا معزز لوگوں کی شہادت سے تقویٰ اور طہارت کے پاک پیرایہ سے مزین تھا اس طرح بے رحمی سے محض اختلاف مذہب کی وجہ سے مارا گیا۔اس امیر سے وہ گورنر ہزارہ درجہ اچھا تھا جس نے ایک مخبری پر حضرت مسیح کو گرفتار کر لیا تھا یعنی پیلاطوس جس کا آج تک انجیلوں میں ذکر موجود ہے کیونکہ اس نے یہودیوں کے مولویوں کو جب کہ انہوں نے حضرت مسیح پر کفر کا فتویٰ لکھ کر یہ درخواست کی کہ اس کو صلیب دی جائے یہ جواب دیا کہ اس شخص کا میں کوئی گناہ نہیں دیکھتا۔افسوس اس امیر کو کم سے کم اپنے مولویوں سے یہ تو پوچھنا چاہئے تھا کہ یہ سنگساری کا فتوی کس قسم کے کفر پر دیا گیا اور اس اختلاف کو کیوں کفر میں داخل کیا گیا اور کیوں انہیں یہ نہ کہا گیا کہ تمہارے فرقوں میں خود اختلاف بہت ہے۔کیا ایک فرقہ کو چھوڑ کر دوسروں کو سنگسار کرنا چاہئے۔جس امیر کا یہ طریق اور یہ عمل ہے نہ معلوم وہ خدا کو کیا جواب دے گا۔بعد اس کے کہ فتویٰ کفر لگا کر شہید مرحوم قید خانہ میں بھیجا گیا صبح روز دو شنبہ کو شہید موصوف کو سلام خانہ یعنی خاص مکان دربار امیر صاحب میں بلایا گیا۔اس وقت بھی بڑا مجمع تھا۔امیر صاحب جب ارک یعنی قلعہ سے نکلے تو راستہ میں شہید مرحوم ایک جگہ بیٹھے تھے ان کے پاس ہو کر گزرے اور پوچھا کہ اخوند زادہ صاحب کیا فیصلہ ہوا۔شہید مرحوم کچھ نہ بولے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ ان لوگوں نے ظلم پر کمر باندھی ہے مگر سپاہیوں میں سے کسی نے کہا کہ ملامت ہو گیا۔یعنی کفر کافتویٰ لگ گیا۔پھر امیر صاحب جب اپنے اجلاس پر آئے تو اجلاس میں بیٹھتے ہی پہلے اخوند زادہ صاحب مرحوم کو بلایا اور کہا کہ آپ پر کفر کا فتویٰ لگ گیا ہے اب کہو کہ کیا تو بہ کرو گے یا سزا پاؤ گے ؟ تو انہوں نے صاف لفظوں میں انکار کیا اور کہا میں حق سے توبہ نہیں کر سکتا۔کیا میں جان کے خوف سے باطل کو مان لوں۔یہ مجھ سے نہیں ہو گا۔تب امیر صاحب نے دوبارہ توبہ کرنے کے لئے کہا اور توبہ کی حالت میں بہت امید دی اور وعدہ معافی دیا مگر شہید موصوف نے بڑے زور سے انکار کیا اور کہا کہ مجھ سے یہ امید مت رکھو کہ میں سچائی سے تو بہ کروں۔ان باتوں کو بیان کرنے والے کہتے ہیں کہ یہ سنی سنائی باتیں نہیں بلکہ ہم خود اس مجمع میں موجود تھے اور مجمع کثیر تھا۔شہید مرحوم ہر ایک فہمائش کا زور سے انکار کرتا تھا اور وہ اپنے لئے فیصلہ کر چکا تھا کہ ضرور ہے کہ میں اسی راہ میں جان دوں۔تب اس نے یہ بھی کہا کہ میں بعد قتل چھ روز تک پھر زندہ ہو جاؤں گا۔یہ راقم کہتا ہے کہ یہ قول وحی کی بناء پر ہو گا جو اس وقت ہوئی ہو گی کیونکہ اس وقت شہید مرحوم منقطعین میں شامل ہو چکا تھا اور فرشتے اس سے مصافحہ کرتے تھے۔تب فرشتوں سے یہ خبر پا کر ایسا اس نے کہا اور اس قول کے یہ معنے تھے کہ وہ زندگی جو اولیاء او را بدال کو دی جاتی ہے چھ روز تک مجھے مل جائے گی اور قبل اس کے جو خدا کا دن آدے یعنی ساتواں دن میں