تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 324
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۳۲۱ کامل میں حضرت سید عبد اللطیف صاحب کی درد ناک شہادت اور اس جگہ یہ بات بیان کرنے سے رہ گئی کہ جب شاہزادہ مرحوم کی ان بد قسمت مولویوں سے بحث ہو رہی تھی تب آٹھ آدمی برہنہ تلواریں لے کر شہید مرحوم کے سر پر کھڑے تھے۔پھر بعد اس کے وہ فتویٰ کفر رات کے وقت امیر صاحب کی خدمت میں بھیجا گیا اور یہ چالا کی کی گئی کہ مباحثہ کے کاغذات ان کی خدمت میں نہ بھیجے گئے اور نہ عوام پر ان کا مضمون ظاہر کیا گیا۔یہ صاف اس بات پر دلیل تھی کہ مخالف مولوی شہید مرحوم کے ثبوت پیش کردہ کا کوئی رد نہ کر سکے مگر افسوس امیر پر کہ اس نے کفر کے فتوئی پر ہی حکم لگا دیا اور مباحثہ کے کاغذات طلب نہ کئے حالانکہ اس کو چاہئے تو یہ تھا کہ اس عادل حقیقی سے ڈر کر جس کی طرف عنقریب تمام دولت و حکومت کو چھوڑ کر واپس جائے گا خود مباحثہ کے وقت حاضر ہو تا بالخصوص جب کہ وہ خوب جانتا تھا کہ اس مباحثہ کا نتیجہ ایک معصوم بے گناہ کی جان ضائع کرنا ہے تو اس صورت میں مقتضاء خداتری کا یہی تھا کہ بہر حال افتان و خیزاں اس مجلس میں جاتا۔اور نیز چاہئے تھا کہ قبل ثبوت کسی جرم کے اس شہید مظلوم پر یہ تختی روانہ رکھتا کہ ناحق ایک مدت تک قید کے عذاب میں ان کو رکھتا اور زنجیروں اور ہتھکڑیوں کے شکنجہ میں اس کو دبایا جاتا اور آٹھ سپاہی برہنہ شمشیروں کے ساتھ اس کے سر پھر کھڑے کئے جاتے اور اس طرح ایک عذاب اور رعب میں ڈال کر اس کو ثبوت دینے سے روکا جاتا۔پھر اگر اس نے ایسا نہ کیا تو عادلانہ حکم دینے کے لئے یہ تو اس کا فرض تھا کہ کاغذات مباحثہ کے اپنے حضور میں طلب کرتا بلکہ پہلے سے یہ تاکید کر دیتا کہ کاغذات مباحثہ کے میرے پاس بھیج دینے چاہیں اور نہ صرف اس بات پر کفایت کر تا کہ آپ ان کاغذات کو دیکھتا بلکہ چاہئے تھا کہ سرکاری طور پر ان کاغذات کو چھپوا دیتا کہ دیکھو کیسے یہ شخص ہمارے مولویوں کے مغلوب ہو گیا اور کچھ ثبوت قادیانی کے مسیح موعود ہونے کے بارے میں اور نیز جہاد کی ممانعت میں اور حضرت مسیح کے فوت ہونے کے بارے میں نہ دے سکا۔ہائے !! وہ معصوم اس کی نظر کے سامنے ایک بکرے کی طرح ذبیح کیا گیا اور باوجود صادق ہونے کے اور باجود پورا ثبوت دینے کے اور باوجود ایسی استقامت کے کہ صرف اولیاء کو دی جاتی ہے پھر بھی اس کا پاک جسم پتھروں سے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا گیا اور اس کی بیوی اور اس کے یتیم بچوں کو خوست سے گرفتار کر کے بڑی ذلت اور عذاب کے ساتھ کسی اور جگہ حراست میں بھیجا گیا۔اے نادان ! کیا مسلمانوں میں اختلاف مذہب اور رائے کی یہی سزا ہو ا کرتی ہے؟ تو نے کیا سوچ کر یہ خون کر دیا۔سلطنت انگریزی جو اس امیر کی نگاہ میں اور نیز اس کے مولویوں کے خیال میں ایک کافر کی سلطنت ہے کس قدر مختلف فرقے اس سلطنت کے زیر سایہ رہتے ہیں۔کیا اب تک اس سلطنت نے کسی مسلمان یا ہندو کو اس قصور کی بناء پر پھانسی دے دیا کہ اس کی رائے پادریوں کی رائے کے مخالف ہے؟ ہائے افسوس آسمان کے نیچے یہ بڑا ظلم ہوا کہ مقابل پر