تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 326 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 326

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۳۲۳ کامل میں حضرت سید عبد اللطیف صاحب کی دردناک شہادت زندہ ہو جاؤں گا۔اور یاد رہے کہ اولیاء اللہ اور خاص لوگ جو خداتعالی کی راہ میں شہید ہوتے ہیں وہ چند دنوں کے بعد پھر زندہ کئے جاتے ہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ولا تحسبن الذین قتلوا في سبيل الله امواتا بل احیاء یعنی تم ان کو مردے مت خیال کرو جو اللہ تعالیٰ کی راہ میں قتل کئے جاتے ہیں وہ تو زندہ ہیں۔پس شہید مرحوم کا اسی مقام کی طرف اشارہ تھا اور میں نے ایک کشفی نظر میں دیکھا کہ ایک درخت سرو کی ایک بڑی لمبی شاخ جو نہایت خوبصورت اور سرسبز تھی ہمارے باغ میں سے کائی گئی ہے اور وہ ایک شخص کے ہاتھ میں ہے تو کسی نے کہا کہ اس شاخ کو اس زمین میں جو میرے مکان کے قریب ہے اس بیری کے پاس لگا دو جو اس سے پہلے کائی گئی تھی اور پھر دوبارہ اگے گی۔اور ساتھ ہی مجھے یہ وحی ہوئی کہ کابل سے کاٹا گیا اور سیدھا ہماری طرف آیا۔اس کی میں نے یہ تعبیر کی کہ تخم کی طرح شہید مرحوم کا خون زمین پر پڑا ہے اور وہ بہت بار آور ہو کر ہماری جماعت کو بڑھا دے گا اس طرف میں نے یہ خواب دیکھی اور اس طرف شہید مرحوم نے کہا کہ چھ روز تک میں زندہ کیا جاؤں گا۔میری خواب اور شہید مرحوم کے اس قول کا مال ایک ہی ہے۔شہید مرحوم نے مرکز میری جماعت کو ایک نمونہ دیا ہے اور در حقیقت میری جماعت ایک بڑے نمونہ کی محتاج تھی۔اب تک ان میں ایسے بھی پائے جاتے ہیں کہ جو شخص ان میں اونی خدمت بجالاتا ہے وہ خیال کرتا ہے کہ اس نے بڑا کام کیا ہے اور قریب ہے کہ وہ میرے پر احسان رکھے۔حالانکہ خدا کا اس پر احسان ہے کہ اس خدمت کے لئے اس نے اس کو توفیق دی۔بعض ایسے ہیں کہ پورے زور اور پورے صدق سے اس طرف نہیں آئے۔اور جس قوت ایمان اور اتناء درجہ کے صدق و صفا کاوہ دعوی کرتے ہیں آخر تک اس پر قائم نہیں رہ سکتے اور دنیا کی محبت کے لئے دین کو کھو دیتے ہیں اور کسی ادنی امتحان کی بھی برداشت نہیں کر سکتے۔خدا کے سلسلے میں بھی داخل ہو کر ان کی دنیا داری کم نہیں ہوتی لیکن خدا تعالی کا ہزار ہزار شکر ہے کہ ایسے بھی ہیں کہ وہ بچے دل سے ایمان لائے اور کچے دل سے اس طرف کو اختیار کیا اور اس راہ کے لئے ہر ایک دکھ اٹھانے کے لئے تیار ہیں۔لیکن جس نمونہ کو اس جوانمرد نے ظاہر کر دیا اب تک وہ قوتیں اس جماعت کی مخفی ہیں۔خدا سب کو وہ ایمان سکھادے اور وہ استقامت بخشے جس کا اس شہید مرحوم نے نمونہ پیش کیا ہے۔یہ دنیوی زندگی جو شیطانی حملوں کے ساتھ ملی ہوئی ہے کامل انسان بننے سے روکتی ہے۔اور اس سلسلہ میں بہت داخل ہوں گے مگر افسوس کہ تھوڑے ہیں کہ یہ نمونہ دکھائیں گے۔پھر ہم اصل واقعہ کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ جب شہید مرحوم نے ہر ایک مرتبہ تو بہ کرنے کی فہمائش پر تو بہ کرنے سے انکار کیا تو امیر نے ان سے مایوس ہو کر اپنے ہاتھ سے ایک لمبا چوڑا کاغذ لکھا