تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 17
تاریخ احمد بیت - جلد ۲ 14 مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام بست یہ ضرور گمان گزرتا ہے کہ وہ مالدار ہو گا۔کمترین نے جس قدر تحقیقات کی ہے وہ شامل مسل ہذا فیصلہ اور بریت " ۱۷۔ستمبر ۱۸۹۸ کو اس مقدمہ کی مسل اور رپورٹ مسٹرایف۔ٹی۔ڈکسن صاحب کے پاس ڈلہوزی گئی اور انہوں نے سب کا غذات دیکھ کر حضور کو ٹیکس سے مستثنی قرار دے دیا اور اپنے فیصلہ میں لکھا۔یہ ٹیکس اب کے ہی لگایا گیا ہے اور مرزا غلام احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ یہ تمام آمدنی میری جماعت کے لئے خرچ ہوتی ہے میرے ذاتی خرچ میں نہیں آتی۔وہ اس بات کو بھی قبول کرتے ہیں کہ میری اور بھی جائداد ہے لیکن تحصیلدار صاحب کے سامنے انہوں نے بیان کیا ہے کہ اس میری جائداد کی آمدنی بھی جو از قسم زمین ہے اور پیداوار زراعت ہے اور زیر دفعہ (۵) ب ہے انکم ٹیکس سے بری ہے دینی مصارف میں کام آتی ہے۔اس شخص کے اظہار نیک نیتی میں مجھے شک کرنے کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی جس کی جماعت کو ہر ایک جانتا ہے میں ان کے چندوں کی آمدنی کو جس کی تعداد ۵۲۰۰ بیان کرتے ہیں اور جو محض دینی کاموں میں خرچ ہوتی ہے زیر دفعہ ۵ (ای) انکم ٹیکس سے بری کرتا ہوں۔" (ترجمہ) مقدمہ کے بعض کوائف حضور نے اس مقدمہ کی پیروی کے لئے حکیم مولوی فضل دین صاحب بھیروی کو مقرر فرمایا اور شیخ یعقوب علی صاحب تراب کو ان کا معاون۔مقدمہ میں جماعت کے چھ افراد کی شہادتیں ہو ئیں جن میں شیخ صاحب موصوف بھی شامل تھے۔یام الصلح کی تصنیف و اشاعت حضرت اقدس مسیح موعود نے ۶ فروری ۱۸۹۸ء کو جو اشتہار طاعون کے متعلق تحریر فرمایا تھا اس پر بعض حلقوں سے یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ طاعون کے استیصال کے لئے بیک وقت دوا بتانے اور یہ کہنے میں کہ یہ وباء شامت اعمال کا نتیجہ ہے دونو میں تناقض ہے۔ایام الصلح اگر چہ بظاہر اس اعتراض کے جواب کے لئے لکھی گئی تھی مگر اس میں حضور نے فلسفہ دعا۔تقدیر۔ایمان اور اپنی صداقت کے دلائل پر اس خوبی اور شان جامعیت سے روشنی ڈالی کہ ایک انسان کو ایک نئی بصیرت اور ایک نئی روشنی عطا ہوتی ہے۔ایام الصلح کا فارسی ایڈیشن (جو مولانا عبد الکریم صاحب نے تیار کیا) اگر چہ اگست ۱۸۹۸ء میں چھپ