تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 18
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام چکا تھا اور اس کا اعلان بھی الحکم ۱۳۔اگست ۱۸۹۸ء میں ہو گیا مگر اس پر چہ میں ایک خصوصی ضمیمہ کے ذریعہ سے اس کی اشاعت ایام الصلح اردو کی اشاعت تک مصلحنا روک دی گئی اور یہ دو نو کتا ہیں جنوری ۱۸۹۹ء میں ایک ساتھ منظر عام پر آئیں۔وجہ تصنیف ۵۴۱ ضرورة الامام" کی تصنیف و اشاعت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ دیرینہ تعلق رکھنے والوں میں ایک صاحب منشی الہی بخش صاحب اکا ؤ ٹسٹ لاہور بھی تھے جنہیں اپنے الہامات پر ناز تھا۔یہ صاحب ستمبر ۱۸۹۸ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حضور کے ایک اور مرید کے ساتھ قادیان پہنچے اور حضور کو تخلیہ میں اپنے بہت سے رویا اور الہامات سنائے۔حضور کو اس امر سے تو خوشی ہوئی کہ خدا تعالٰی نے انہیں الہامات کا شرف بخشا ہے لیکن جب انہوں نے ایک یہ خواب سنائی کہ میں نے آپ کی نسبت کہا ہے میں ان کی بیعت کیوں کروں بلکہ انہیں میری بیعت کرنا چاہیے - تو حضور نے اپنی فراست سے یہ سمجھ کر کہ اس نوع کی خوابوں سے انہیں ٹھوکر نہ لگ جائے صرف ڈیڑھ دن میں ایک پر معارف رسالہ ” ضرورۃ الامام " تصنیف فرمایا جو اکتوبر ۱۸۹۸ء میں شائع ده ہوا۔رسالہ ضرورۃ الامام کیا ہے ؟ حقائق و معارف کا خزانہ ہے جس میں حضور نے بڑی شرح وبسط سے بتایا ہے کہ امامت کے بلند منصب کے لئے اخلاق ، قوت امامت سطت فی العلم ، عزم ، اقبال علی اللہ کی قوتوں اور کشوف و الہامات کے سلسلہ کا ہونا ضروری ہے جو آپ میں خدا تعالیٰ نے جمع کر دی ہیں۔اس لئے آپ ہی امام الزمان ہیں جن کی پیروی تمام مسلمانوں ، زاہدوں، خواب بینوں اور مسلموں کو کرنا خدا تعالیٰ کی طرف سے فرض قرار دیا گیا ہے۔اس کتاب میں حضور نے بچے الہام کی دس ایسی واضح علامات بیان فرمائی ہیں جن سے شیطانی اور رحمانی الہامات میں امتیاز واضح ہو جاتا ہے اور جھوٹا ملم مقابل پر نہیں ٹھہر سکتا۔اس ضمن میں حضرت اقدس نے یہ زبر دست تحدی فرمائی کہ :۔"اگر میں حکم نہیں ہوں تو میرے نشانوں کا مقابلہ کرو۔میرے مقابل پر جو اختلاف عقائد کے وقت آیا ہوں اور سب بحثیں نکمی ہیں۔صرف حکم کی بحث میں ہر ایک کا حق ہے جس کو میں پورا کر چکا۔خدا نے مجھے چار نشان دیئے ہیں (۱) میں قرآن شریف کے معجزہ کے کل پر عربی بلاغت فصاحت کا نشان دیا گیا ہوں کوئی نہیں کہ جو اس کا مقابلہ کر سکے (۲) قرآن شریف کے حقائق و معارف بیان کرنے کا نشان دیا گیا ہوں کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کر سکے (۳) میں کثرت قبولیت دعا کا نشان دیا گیا ہوں کوئی