تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 16 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 16

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ مسلمان مدرسہ تعلیم الاسلام کا قیام چنانچہ اس کے بعد حالات یکا یک بدل تحصیلدار کی غیر جانبدارانہ رپورٹ تھے اور ہندو تحصیلدار کی کرسی پر ایک مسلمان منشی تاج الدین صاحب باغبانپوری بٹالہ آگئے جنہوں نے ۱۵۔اگست ۱۸۹۸ء کو قادیان پہنچ کر اصل معاملہ کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی اور ۳۱۔اگست ۱۸۹۸ء کو مسٹر ایف ٹی ڈکسن (F۔T۔DIXON) کلکٹر ضلع گورداسپور کی خدمت میں مفصل رپورٹ بھجوائی کہ " مرزا غلام احمد کی 21 اپنی ذاتی آمدنی سوائے آمدنی تعلقہ داری زمین اور باغ کے اور نہیں ہے جو قابل ٹیکس ہو۔گواہوں میں سے چھ گواہ کو معتبر اشخاص ہیں لیکن مرزا صاحب کے مرید ہیں اور اکثر مرزا غلام احمد کے پاس رہتے ہیں۔دیگر سات گواہ مختلف قسم کے دوکان دار ہیں جن کو مرزا صاحب سے کچھ تعلق نہیں ہے بالعموم یہ سب گواہان مرزا غلام احمد کے بیان کی تائید کرتے ہیں اور اس کی ذاتی آمدنی تعلقہ داری زمین اور باغ کے اور کسی قسم کی نہیں بتلاتے۔میں نے موقعہ پر بھی خفیہ طور سے مرزا غلام احمد صاحب کی ذاتی آمدنی کی نسبت بعض اشخاص سے دریافت کیا لیکن اگر چہ بعض اشخاص سے معلوم ہوا کہ مرزا غلام احمد کی ذاتی آمدنی بہت ہے اور یہ قابل ٹیکس ہے لیکن کہیں سے کوئی بین ثبوت مرزا صاحب کی آمدنی کا نہ مل سکا زبانی تذکرات پائے گئے کوئی شخص پورا پورا ثبوت نہ دے سکا۔میں نے موضع قادیان میں مدرسہ اور مہمان خانہ کا بھی ملاحظہ کیا۔مدرسہ ابھی ابتدائی حالت میں ہے اور اکثر عمارت خام بنا ہوا ہے اور کچھ مریدوں کے لئے گھر بھی بنے ہوئے ہیں۔لیکن مہمان خانہ میں واقعی مہمان پائے گئے۔اور یہ بھی دیکھا گیا کہ جس قدر مرید اس روز قادیان میں تھے انہوں نے مہمان خانہ سے کھانا کھایا۔کمترین کی رائے ناقص میں اگر مرزا غلام احمد کی ذاتی آمدنی صرف تعلقہ داری اور باغ کی قرار دی جائے جیسا کہ شہادت سے عیاں ہوا اور جس قدر آمدنی مرزا صاحب کو مریدوں سے ہوتی ہے اس کو خیرات کا روپیہ قرار دیا جاوے جیسا کہ گواہان نے بالعموم بیان کیا تو مرزا غلام احمد پر موجودہ انکم ٹیکس بحال نہیں رہ سکتا۔" تاج الدین صاحب تحصیلدار بٹالہ نے اپنی رپورٹ کے آخر میں یہ لکھا۔لیکن جب کہ دوسری طرف خیال کیا جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد ایک معزز اور بھاری خاندان سے ہے اور اس کے آباد اجداد رئیس رہے ہیں اور ان کی آمدنی معقول رہی ہے اور مرزا غلام احمد خود ملازم رہا ہے اور آسودہ حال رہا تو ضرور گمان گزرتا ہے کہ مرزا غلام احمد ایک مالدار شخص ہے اور قابل ٹیکس ہے۔مرزا صاحب کے اپنے بیان کے مطابق حال ہی میں اس نے اپنا باغ اپنی زوجہ کے پاس گروی رکھ کر اس سے چار ہزار کا زیور اور ایک ہزار روپیہ نقد وصول پایا۔تو جس شخص کی عورت اس قدر روپیہ دے سکتی ہے اس کی