تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 240 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 240

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ جاد هشتم صفحه ۱۲۹ ۱۲۷ ۲۶ - البدر ۶/ اپریل ۱۹۰۵ء صفحه ۲۳۷ جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز ترقی ۲۷- نمونے کا پرچہ ۲۰ دسمبر ۱۹۵۷ء کو شائع ہوا تھا۔اولین پر نٹرو پبلشر حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی تھے اور مطبع را ما آرٹ ۲۰ کو ہواتھا۔پر عبدالرحمن قادیانی اور پریس امرتسر ۲۸- ذکر حبیب صفحه ۱۹۳ أولاد -۲۹ اشتهار ۲۰/ فروری ۱۸۸۶ء مندرجہ ذیل اشعار میں اس بشارت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:۔خدایا تیرے فضلوں کو کروں یاد بشارت تو نے دی اور پھر بڑھیں گے جیسے باغوں میں ہوں شمشاد کہا ہرگز نہیں ہوں گے یه بر باد ۳۰ اربعین نمبر ۲ صفحه ۳۲ ۳۱ بحوالہ الفضل ۲۷ جولائی ۱۹۴۶ء صفحہ ۳ ۳۲- الحکم ۷ استمبر ۱۹۰۴ء صفحہ ۱۰۹ ۳۳ الحکام نے اسی ۱۹۰۶ ء صفحہ ۲ ۳۴ مکتوب مورخه ۱۰ مارچ ۱۹۰۱ء ( اصل خط خلیفہ صلاح الدین صاحب مرحوم دار الیمن ربوہ کی اولاد کے پاس محفوظ ہے) ۳۵- آپ کا پہلا نام رشیدہ تھا مگر حضرت ام المومنین نے آپ کو محمودہ بیگم کا نام دیا اور اسی نام سے آپ آخر عمر تک موسوم رہیں الفضل ۷ / اگست ۱۹۵۸ء - الحکم ۱۰/۱۷- اکتوبر ۱۹۰۲ء صفحہ ۹۴۸ - الحکم ۰۱۰/۱۷ اکتو: ۱۹۰۳ء صفحه ۹۴۸ ۳۸- جناب مولف صاحب مجدد اعظم" نے لکھا ہے کہ نکاح کے ساتھ شادی بھی ہوئی یہ صحیح نہیں۔شادی اگلے سال ہوئی تھی۔۳۹ ضمیمه الحکم ۱۰ اکتوبر ۱۹۰۳ء صفحه ۳ و البدر ۲۳ اکتوبر ۱۹۰۴ء صفحه ۳۱۴ ۴۰- اصحاب احمد جلد 4 صفحه ۱۳۰ الفضل ۴ جولائی ۱۹۲۴ء صفحه ۴ کالم نمبر ۱۳ حضرت سیدہ محمودہ کی سیرت و شمائل کے حالات کے لئے ملاحظہ ہو الفضل کے / اگست ۱۹۵۸ء صفحہ ۳ الفضل ۱۲/ اگست ۱۹۵۸ء صفحه ۳ الفضل ۱۳/ اگست ۱۹۵۸ء صفحه ۳ - الفضل ۱۶/ اگست ۱۹۵۸ء صفحه ۳-۴ ۲۲ حضرت سیدہ محمودہ بیگم صاحبہ کو جو ام ناصر کہلائیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب سے بڑی اور سب سے پہلی بہو تھیں پچھپن چھپن سال تک حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی رفاقت اختیار کرنے کی سعادت ملی اور ۳۱/ جولائی ۱۹۵۸ء کو انہوں نے مری میں انتقال فرمایا اور ربوہ میں دفن ہو ئیں۔حضرت سیدہ نہایت در چه خدار سیده غریب پر در اور ہمد رد خلائق خاتون تھیں۔نیکیوں اور قربانیوں میں ان کا مقام بہت بلند تھا۔آپ کو حضرت خلیفہ مسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی سے جو خرچ کہا تھا اس کا اکثر حصہ چندے میں دے دیتی تھیں اور اولین مومیوں میں سے تھیں۔آپ کی قربانی اور ایثار کی بہترین اور روشن یادگار اخبار " الفضل " کا اجراء ہے جس کے لئے آپ نے اپنے دو زیور اپنے مقدس خاوند کو پیش کر دیے اور اس سرمایہ سے اخبار جاری ہوا۔۴۳ الفضل یکم جون ۱۹۱۳ء صفحه ( تاریخ ولادت یکم اگست ۱۹۰۱ء- تاریخ وفات ، ادسمبر ۱۹۴۴ء) -۴۴- الفضل ۱۰ / فروری ۱۹۲۱ء صفحه ا ۴۵ الفضل ۱۸ اپریل ۱۹۲۵ء صفحہ ا۔تاریخ وفات ۱۳ مئی ۱۹۳۳ء الفضل ۵۹ فروری ۱۹۲۶ء صفحه ۱ ۰۴۷ الفضل ۲ اکتوبر ۱۹۳۵ء صفحه) ۴۸- الفضل ۲۶ جولائی ۱۹۴۴ء صفحه ۱