تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 229
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۲۲۶ جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز ترقی (متوفی)۔صاحبزادی امتہ الجمیل صاحبہ (ولادت ۳۰/ جولائی ۱۹۳۷ء) حرم رابع حضرت ساره بیگم صاحبه دختر نیک اختر حضرت مولانا عبد الماجد صاحب بھاگلپوری (نکاح ۱۲ / اپریل ۱۹۲۵ء) اولاد : صاحبزادہ مرزا رفیع احمد صاحب (ولادت ۵ / مارچ ۱۹۲۷ء) - صاحبزادی امته النصیر بیگم صاحبہ (ولادت ۱۳ - اپریل -۱۹۲۹ء)- صاحبزادہ مرزا حنیف احمد صاحب (ولادت ۲۴ مارچ ۱۹۳۲ء) حرم خامس حضرت عزیزه خاتون صاحبه (ام وسیم ) دختر نیک اختر سیٹھ ابو بکر یوسف صاحب آف جده (نکاح یکم فروری (۱۹۲۶ء) - اولاد : صاحبزادہ مرزا د سیم احمد صاحب (ولادت یکم اگست ۱۹۲۷ء) صاحبزادہ مرزا نعیم احمد صاحب (ولادت ۲۳/۲۴ مارچ ۱۹۳۲ء) حرم سادس حضرت سیده مریم صدیقه صاحبه ام متین) دختر نیک اختر حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب - (نکاح ۳۰ / ستمبر ۱۹۳۵ء) اولاد : صاحبزادی امتہ المتین صاحبہ (ولادت ۲۱ / دسمبر -(81977 حرم سابع سیده بشری بیگم صاحبه دختر نیک اختر جناب سید عزیز اللہ شاہ صاحب۔(نکاح ۲۴/ جولائی BA (۱۹۴۴ مباحثه مد مد ضلع امرتسر میں ایک گاؤں ہے جہاں ایک بزرگ میاں محمد یعقوب صاحب رہتے تھے۔میاں صاحب موصوف جب داخل احمدیت ہوئے تو مد والوں نے ان کا عرصہ حیات تنگ کر دیا۔یہاں تک کہ سوشل بائیکاٹ کی نوبت آپہنچی جس پر میاں محمد یعقوب صاحب نے اپنے بھائی محمد یوسف صاحب اپیل نویس بکٹ گنج مردان کو اطلاع دی۔جدہ پہنچے اور مخالفین کو مناسب طریق پر سمجھایا۔چنانچہ فریقین کی رضامندی سے فیصلہ ہوا کہ مسائل متنازعہ کے تصفیہ کے لئے علماء کا مناظرہ ہو - 1 میاں صاحب کے ایک رشتہ دار نے اس سلسلہ میں مولوی ثناء اللہ صاحب کو لانے کا بھی ذمہ اٹھایا۔جب مناظرہ کی بات پختہ ہو گئی تو میاں محمد یوسف صاحب قاریان گئے اور حضرت اقدس کی خدمت میں اصل واقعات پیش کئے اور علماء بھیجوانے کے لئے عرض کیا۔یہ ۲۴/ اکتوبر ۱۹۰۲ ء کی بات ہے۔حضرت اقدس نے تو اول تو فرمایا کہ ایسے مباحثات سے فائدہ نہیں ہو تا مگر منشی صاحب کا اصرار دیکھا تو حضور نے مولانا سید محمد سرور شاہ صاحب کو مد پہنچنے کا ارشاد فرمایا کہ وہاں احمدیت کی تبلیغ کریں اور اگر ضرورت پڑے تو مہذبانہ طریق سے مباحثہ کریں۔مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب کے ساتھ مولوی