تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 230 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 230

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۱۵۳ ۲۲۷ جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز ترقی عبداللہ صاحب کشمیری کو بھی روانہ ہونے کا حکم ملا۔چنانچہ حضرت مولوی سید سرور شاہ صاحب اور مولوی عبداللہ صاحب کشمیری یکہ پر قادیان سے امر تسر آئے اور وہاں سے اجنالہ کے رستہ سے مد پہنچے۔فیصلہ کے مطابق مولوی ثناء اللہ صاحب بھی آگئے اور آتے ہی گاؤں کی فضا یکسر مکدر کردی اور عوام میں زبر دست اشتعال پیدا کر ڈالا اور تعلی کی کہ میں بہادر اور فتحیاب ہوں۔میرے یہاں پہنچنے کار از افشانہ ہو جائے ورنہ مجھے ڈر ہے کہ مرزائی مناظر دہشت زدہ ہو کر بھاگ جائیں گے۔اسی ماحول میں مباحثہ کے لئے منادی کرائی گئی اور لوگ جلد جلد اس کے مضافات سے آٹھ بجے کے قریب گاؤں کے غربی حصہ میں ایک درخت کے نیچے جمع ہوئے۔مرد کی آبادی ان دنوں دو اڑھائی سو کے قریب تھی اردگرد سے شامل ہونے والے غیر احمدیوں کی تعداد چھ سات سو تک پہنچ گئی مگر احمد ی صرف تین چارتھے۔مباحثہ کی شرائط کا مرحلہ پیش آیا تو فریقین میں متنازعہ مسائل کے متعلق تحریری مباحثہ کا ہونا طے پا گیا اور صدر مجلس احمد علی صاحب نام ایک دوست مقرر ہوئے جو مد کے قریب پیلو دال کے باشندہ تھے۔مولوی شاء اللہ صاحب ابتداء ہی میں اس بات پر اڑ گئے کہ پرچہ کے لئے صرف ہیں میں منٹ کی باری مقرر ہو مگر حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے زور دیا کہ زیر بحث مضامین بڑی اہمیت ۵۵ کے حامل اور تفصیل طلب ہیں لہذا پرچہ کے لئے کم سے کم وقت ایک ایک گھنٹہ ہونا چاہیے۔حضرت مولوی سید محمد سرور شاہ صاحب نے منشی محمد یوسف صاحب کو بھی اس طرف توجہ دلائی لیکن عوام کے تیور بدلے ہوئے تھے تنہاء منشی صاحب کیا کر سکتے تھے ؟ اس بحث و تکرار میں مولوی ثناء اللہ صاحب اور ان کے ساتھیوں کی ہنگامہ آرائی سے مجمع بے قابو ہو رہا تھا۔احمدیوں نے اس نازک موقعہ پر مدد و نصرت کے لئے اللہ تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا کی اور بامر مجبوری بیس منٹ کے وقت پر راضی ہو گئے۔مباحثہ شروع ہوا۔ہر فریق میں منٹ تک لکھتا اور سنا دیتا۔پھر ایک دوسرے کا دونوں جواب لکھتے تھے۔مباحثہ کا اولین اور معرکتہ الاراء مسئلہ وفات مسیح تھا مباحثہ دو دن (۲۹ - ۳۰ اکتوبر ) جاری رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قبل ازیں ایک موقعہ پر مولوی شاء اللہ صاحب کی کسی تحریر کے جواب میں فرمایا تھا کہ وفات مسیح کے لئے فلما تو فیتنی والی آیت ہی کافی ہے۔یہ عظیم نکتہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مولوی صاحب موصوف کو عین موقعہ پر سمجھا دیا اور پھر آپ کی روح القدس سے ایسی تائید ہوئی اور آپ نے اسے اس طرح مدلل اور مسکت انداز میں پیش کیا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب سے اس کا کوئی جواب نہ بن پڑا اور صدر مباحثہ کو اٹھ کر صاف اعلان کرنا پڑا کہ مولوی سرور شاہ صاحب نے جو بیان کیا ہے اسے سنکر اب میں کفر سمجھتا ہوں کہ مسیح کو زندہ سمجھوں۔اس طرح ابتداء میں