تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 220 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 220

تاریخ احمدیت جلد ۴ ۲۱۷ جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز ترقی آسمان پر دے گا۔اگر تم چاہتے ہو کہ آسمان پر فرشتے بھی تمہاری تعریف کریں تو تم ماریں کھاؤ اور خوش رہو اور گالیاں سنو اور شکر کرو اور ناکامیاں دیکھو اور پیوند مت توڑو۔تم خدا کی آخری جماعت ہو سودہ عمل نیک دکھلاؤ جو اپنے کمال میں انتہائی درجے پر ہو۔" حضرت مسیح ناصری کے پہاڑی وعظ کو عیسائی دنیا ایک شاہکار سمجھتی ہے مگر پہاڑی وعظ کو حضرت مسیح محمدی کی کشتی نوح میں بیان فرمودہ تعلیم سے کچھ نسبت نہیں۔کشتی نوح پر اخبارات کی تنقید اور حضور کا ایمان افروز جواب ماعون پر ابتدائی اشتہار کی طرح "کشتی نوح" پر بھی سول ملٹری گزٹ" کے سوا) متعصب ملکی اخبارات نے مخالفانہ رنگ میں تقری نکات لکھی تھیں اور بڑی مخالفت کی کہ گویا حضور نے گورنمنٹ کی راہ میں روڑے اٹکا دیئے ہیں۔مصری اخبار اللواء" نے لکھا کہ یہ لوگ قرآن مجید نہیں سمجھتے اور ترک اسباب کرتے ہیں حالانکہ حدیث میں ہے ما من داء الا له دواء کہ ہر بیماری کے لئے دوا موجود ہے۔حضرت اقدس نے اس اعتراض کے جواب میں مفصل تقریر فرمائی کہ اسباب پرستی بھی آجکل ایک خطرناک شرک کی حد تک پہنچی ہوئی ہے حالانکہ مومن کا جس قدر ایمان اللہ تعالٰی پر ہوتا ہے اسی قدر وہ اسباب کی نفی اپنے ایمان میں کرتا اور اللہ تعالیٰ ہی پر بھروسہ اور تو کل رہتا ہے۔اس درجہ پر بعض امور اس قسم کے بھی پیش آتے ہیں کہ فی الحقیقت بلا توسط اسباب ظاہری اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کو مدد دیتا ہے اور شفا دیتا ہے۔میں نے اپنی ذات پر ان امور کو مشاہدہ کیا ہے۔بعض امراض میں بدوں کسی دوا کے استعمال کے مجھے شفا دی ہے۔اسباب پرست خواہ کچھ ہی کے مگر میں ایسے نشانوں کو بے قدری کی نگاہ سے دیکھوں یا انہیں ضائع کر دوں تو یہ معصیت ہوگی۔اسی طرح یہ طاعون سے محفوظ رہنے کا نشان جو مجھے دیا گیا ہے میں اس کا کیونکر انکار کر سکتا ہوں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ ٹیکہ کے بغیر مجھے بچایا گیا ہے۔یہ سچ ہے کہ ہر مرض کی دوا اس نے پیدا کی ہے مگر یہ تو نہیں کہا گیا کہ اللہ تعالیٰ کسی مرض کو دوا کے بغیر شفاء نہیں دیتا۔مئی ۱۹۰۴ء کا واقعہ ہے کہ مولوی طاعون سے حفاظت کے دو نہایت اہم واقعات محمد علی صاحب کو شدید بخار ہوا۔جس پر انہیں طاعون کا شبہ ہو گیا۔حضور کو خبر ہوئی تو آپ ان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا کہ اگر آپ کو طاعون ہو تو پھرانی احافظ كل من في الداد کا الہام اور یہ سب کا روبار عبث ہے۔پھر حضور نے ان کی نبض پر ہاتھ رکھا تو بخار کا نام و نشان نہ تھا۔حضور نے خود یہ واقعہ بائیں الفاظ میں بیان