تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 219
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۲۱۶ جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز ترقی حضرت مسیح موعود کے نام ہبہ کر دیا۔اس طرح "الدار کی توسیع عمل میں آئی۔الدار" کی غیر معمولی حفاظت حضرت مسیح موعود نے خدا کے حکم سے جو پیشگوئی فرمائی وہ بعد کو لفظا لفظاً پوری ہوئی۔حضور کے "الدار " (جہاں طاعون کے ایام میں آپ کے مخلصین کثیر تعداد میں رہائش پذیر تھے) کی دیواروں سے ملحق مکانوں تک طاعوان پہنچی اور ہمسایہ کے ہندو طاعون کا شکار ہوئے۔مگر " الدار" میں چوہا تک طاعون سے نہیں مرا۔اسی طرح جیسا کہ حضور نے پیشگوئی فرمائی تھی جماعت سے بھی خارق عادت سلوک ہوا جس کے نتیجہ میں جماعت کی ان دنوں اتنی غیر معمولی ترقی ہوئی کہ اس کی تعداد ہزاروں سے نکل کر ۱۹۰۲ء میں ایک لاکھ تک پہنچ گئی۔۱۹۰۳ ء میں اس کثرت سے لوگ آپ کے مبائعین میں شامل ہوئے کہ اخبار ا حکم " کو مجبور انٹے میائین کی فہرست کا کالم ہی بند کر دینا پڑا۔۱۹۰۴ء میں یہ تعد اد دولاکھ تک I اور ۱۹۰۶ ء میں چار لاکھ تک پہنچ گئی۔حضور طاعون کے زمانہ میں بیعت کرنے والوں کو از راہ ظرافت ” طاعونی احمدی" کے نام سے یاد فرمایا کرتے تھے۔کشتی نوح " کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں جماعت کے لئے مقدس تو حضور نے اپنی مقدس تعلیم لکھی ہے جو نہ صرف طاعون بلکہ دنیا کی آفات و مصائب کے طوفانوں میں کشتی کی حیثیت رکھتی ہے۔یہ تعلیم جب اہل عرب کے سامنے عربی زبان میں رکھی گئی تو بعض نے اسے زبانی حفظ کیا تھا۔بطور نمونہ چند الفاظ درج کرتا ہوں حضور فرماتے ہیں:۔سواے وے تمام لوگو! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو آسمان پر تم اس وقت میر بیا جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ سچ تقومی کی راہوں پر قدم مارو گے۔سو اپنی پنج وقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو۔اور اپنے روزوں کو خدا کے لئے صدق کے ساتھ پورے کرو۔ہر ایک جو زکوۃ کے لائق ہے وہ زکوۃ دے اور جس پر حج فرض ہو چکا ہے اور کوئی مانع نہیں وہ حج کرے۔نیکی کو سنوار کر ادا کرو اور بدی کو بیزار ہو کر ترک کرد۔یقینا یا د رکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا ہے جو تقویٰ سے خالی ہے۔ہر ایک نیکی کی جڑ تقومی ہے۔جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہوگی وہ عمل بھی ضائع نہیں ہو گا۔ضرور ہے کہ انواع رنج و مصیبت سے تمہارا امتحان بھی ہو جیسا کہ پہلے مومنوں کے امتحان ہوئے۔سو خبردار ہو! ایسا نہ ہو کہ ٹھو کر کھاؤ۔زمین تمہارا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتی اگر تمہارا آسمان سے پختہ تعلق ہے۔جب کبھی تم اپنا نقصان کرو گے تو اپنے ہاتھوں سے نہ دشمن کے ہاتھوں سے۔اگر تمہاری زمینی عزت ساری جاتی رہے تو خدا تمہیں ایک لازوال عزت