تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 221
تاریخ احمدیت جلد ۲ فرمایا ہے:۔KIA جماعت احمدیہ کی حیرت انگیز ترقی ایک دفعہ طاعون کے زور کے دنوں میں جب قادیان میں بھی طاعون تھی مولوی محمد علی صاحب ایم اے کو سخت بخار ہو گیا اور ان کو ظن غالب ہو گیا کہ یہ طاعون ہے اور انہوں نے مرنے والوں کی طرح وصیت کر دی اور مفتی محمد صادق صاحب کو سمجھا دیا اور وہ میرے گھر کے ایک حصہ میں رہتے تھے جس گھر کی نسبت خدا تعالیٰ کا یہ الہام ہے انی احافظ كل من فی الدار۔تب میں ان کی عیادت کے لئے گیا اور ان کو پریشان اور گبھراہٹ میں پاکر میں نے ان کو کہا کہ اگر آپ کو طاعون ہو گئی تو پھر میں جھوٹا اور میرا دعوئی الہام غلط ہے۔یہ کہہ کر میں نے ان کی نبض پر ہاتھ لگایا۔یہ عجیب نمونہ قدرت الهی دیکھا کہ ہاتھ لگانے کے ساتھ ہی ایسا بدن سرد پایا کہ تپ کا نام و نشان نہ تھا۔" اسی نوعیت کا ایک اور واقعہ ۱۹۰۶ ء میں ہوا جس کی تفصیل حضور ہی کے الفاظ میں درج کرتا ہوں فرماتے ہیں۔میں نے کئی دفعہ ایسی منذر خواہیں دیکھیں جن میں صریح طور پر یہ بتلایا گیا تھا کہ میر نا صر نواب جو میرے خسر ہیں ان کے عیال کے متعلق کوئی مصیبت آنے والی ہے۔میں دعا میں لگ گیا ہوں اور وہ اتفاقا مع اپنے بیٹے اسحاق اور اپنے گھر کے لوگوں کے لاہور جانے کو تھے میں نے ان کو یہ خواہیں سنادیں اور لاہور جانے سے روک دیا اور انہوں نے کہا کہ میں آپ کی اجازت کے بغیر ہرگز نہیں جاؤں گا۔جب دوسرے دن کی صبح ہوئی تو میر صاحب کے بیٹے اسحاق کو تیز تپ چڑھ گیا اور سخت گھبراہٹ شروع ہو گئی اور دونوں طرف بن ران میں گلٹیاں نکل آئیں اور یقین ہو گیا کہ طاعون ہے۔کیونکہ اس ضلع کے بعض مواضع میں طاعون پھوٹ پڑی ہے۔تب معلوم ہوا کہ مذکورہ بالا خوبواں کی تعبیر یہی تھی اور دل میں سخت غم پیدا ہوا۔اور میں نے میر صاحب کے گھر کے لوگوں کو کہہ دیا کہ میں تو دعا کرتا ہوں اور آپ بہت توبہ و استغفار کریں۔کیونکہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ آپ نے دشمن کو اپنے گھر میں بلایا ہے اور یہ کسی لغزش کی طرف اشارہ ہے۔اور اگر چہ میں جانتا تھا کہ موت فوت قدیم سے ایک قانون قدرت ہے لیکن یہ خیال آیا کہ اگر خدانخواستہ ہمارے گھر میں کوئی طاعون سے مرگیا تو ہماری تکذیب میں شور قیامت برپا ہو جائے گا اور پھر گو میں ہزار نشان بھی پیش کروں تب بھی اس اعتراض کے مقابل پر کچھ بھی ان کا اثر نہیں ہو گا۔کیونکہ میں صدہا مرتبہ لکھ چکا ہوں اور شائع کر چکا ہوں اور ہزار ہا لوگوں میں بیان کر چکا ہوں کہ ہمارے گھر کے تمام لوگ طاعون کی موت سے بچے رہیں گے۔غرض اس وقت جو کچھ میرے دل کی حالت تھی میں بیان نہیں کر سکتا۔میں فی الفور دعا میں مشغول ہو گیا اور بعد دعا کے عجیب نظارہ قدرت دیکھا کہ دو تین گھنٹہ میں خارق عادت کے طور پر اسحاق کانپ اتر گیا