تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 196
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۱۹۳ تعریف نبوت میں تبدیلی ١٣٣ یہ بھی تجویز ہوئی کہ حضور کے خطاب سے قبل حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی ایک تقریر اس موضوع پر ریکارڈ کی جائے کہ انیسویں صدی مسیحی کے سب سے بڑے انسان کی تقریر آپ کو سنائی جاتی ہے جس نے خدا کی طرف سے مامور ہونے کا دعویٰ کیا ہے اور جو مسیح موعود اور مہدی معہود کے نام سے دنیا میں آیا ہے اور جس نے ارض ہند میں ہزاروں لوگوں کو اپنے ساتھ ملالیا ہے اور جس کے ہاتھ پر ہزاروں تائیدی نشان ظاہر ہوئے۔خدا تعالٰی نے جس کی ہر میدان میں نصرت کی وہ اپنی دعوت بلاد اسلامیہ میں کرتا ہے۔سامعین خود اس کے منہ سے سن لیں کہ اس کا دعویٰ اور دلائل کیا ہیں؟ نو نو گراف کا تجربہ کرنے کے لئے حضرت اقدس نے نواب محمد علی خاں صاحب کو لکھا کہ جب وہ قادیان آئیں فونوگراف ساتھ لیتے آئیں۔چنانچہ وہ وسط نومبرا ۱۹۰ ء میں حضور کی خدمت میں لائے اور ۱۵۔نومبر ۱۹۰۱ء کو نماز عصر کے بعد اس کے ریکارڈ سنائے اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی دو سلنڈروں میں آواز ریکارڈ کی۔قادیان میں فونوگراف کا چرچا ہوا تو دوسرے لوگوں میں بھی اس کے دیکھنے کی بڑی خواہش پیدا ہوئی۔قادیان کے آریہ سماجی لالہ شرمپت رائے کو تو اس قدر اشتیاق ہوا کہ انہوں نے براہ راست حضرت مسیح موعود کی خدمت میں بھی درخواست کر دی۔یہ ۲۰ نومبر ۱۹۰۱ء کا واقعہ ہے۔حضور نے نماز ظہر کے وقت حضرت نواب صاحب سے اس کا تذکرہ فرمایا تو نواب صاحب نے اس کی بخوشی اجازت دے دی۔ان لوگوں کا فونوگراف دیکھنا تو محض تماشائی کے رنگ میں تھا مگر حضرت مسیح موعود نے اسے تبلیغ کا ایک بھاری ذریعہ بنالیا اور وہ یوں کہ حضور نے چند منٹوں میں خاص اس تقریب کے لئے ایک لطیف اور تبلیغی نظم کی جس کے ابتدائی دو شعر یہ تھے۔آواز آرہی ہے یہ فوٹو گراف ڈھونڈو خدا کو دل سے نہ لاف و گزاف سے سے جب تک عمل نہیں ہے دل پاک صاف سے کم تر نہیں یہ مشغلہ بت کے طواف سے حضرت اقدس کی ہدایت کے تحت مولانا عبد الکریم صاحب نے یہ نظم اور اس کے علاوہ عجب نوریست در جان محمد کے مصرعہ والی مشہور نظم اور قرآن مجید کی چند آیات پڑھیں نیز حضور کی ایک فارسی نظم کے چند اشعار منشی نواب خاں صاحب ثاقب آنف مالیر کوٹلہ نے پڑھے جو فونوگراف میں محفوظ کرلئے گئے۔یہ تیاری مکمل ہو چکی تو ساڑھے چار بجے کے قریب حضرت اقدس علیہ السلام کے بالاخانہ کے صحن میں فونوگراف رکھ دیا گیا۔حضرت اقدس کی طرف سے تحریری اطلاع ملنے پر نہ صرف لالہ شرمپت رائے اور آریہ سماج کا سیکرٹری بلکہ دوسرے اور ہندو اور مسلمان کثیر تعداد میں پہنچ گئے۔لالہ شرمیت رائے کو فونوگراف کے قریب بٹھایا گیا۔فونوگراف نے سب سے پہلے مالیر کوٹلوی کے لب ولہجہ میں اشعار