تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 197 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 197

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۱۹۴ تعریف نبوت میں تبدیلی سنائے پھر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی سریلی آواز سے حضرت اقدس کی تازہ اور قدیم نظم نشر ہوئی۔حضرت اقدس کی تازہ نظم دو بار سنائی گئی اور دو نو مرتبہ جماعت کے بزرگوں کے چہرے خوشی سے تمتما اٹھے اور ان پر ایک وجد کی سی کیفیت طاری رہی مگر لالہ شرعیت رائے اور دوسرے غیر مسلموں کا رنگ بالکل فق ہو جاتا تھا۔بہر حال حضرت اقدس نے تبلیغ اسلام کا حق ادا کر دیا اور یہ تجربہ تبلیغی نکتہ نگاہ سے نہایت درجہ کامیاب ثابت ہوا۔آخر میں قرآن شریف مولانا عبد الکریم صاحب کی زبان سے سنایا گیا اور یہ جلسہ جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے دنیا میں پہلا جلسہ تھا بر خواست ہوا۔تجویز کی التواء افسوس جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے وفد نفیسین کے التواء کی وجہ سے حضرت اقدس مسیح موعود کی تقریر کے ریکارڈ کی تجویز بھی رہ گئی اور جماعت کو قیامت تک کے لئے حضور کی آواز سے محروم ہونا پڑا۔یہی نہیں جن دو بزرگوں کی آواز محفوظ کی گئی تھی وہ بھی محفوظ نہ رہ سکی اور سلنڈر بہت جلد بیکار ہو گئے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب (حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور (حضرت) نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی آمین قمر الانبیاء مرزا بشیر احمد صاحب حضرت مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کے ختم قرآن شریف کی پر مسرت تقریب پر ۳۰/ نومبرا ۱۹۰ء کو آمین کی تقریب ہوئی جس میں حضور نے بطور شکریہ ایک پر تکلف دعوت دی اور مساکین اور یتامی کو کھانا کھلایا ایک دعائیہ نظم بھی حضور نے لکھی۔اس موقع پر حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے عرض کیا کہ حضور یہ آمین کوئی رسم ہے یا کیا ہے۔حضور نے اس سوال پر مفصل تقریر کرتے ہوئے فرمایا " میں ہمیشہ فکر میں رہتا ہوں اور سوچتا رہتا ہوں کہ کوئی راہ ایسی نکلے جس سے اللہ تعالٰی کی عظمت و جلال کا اظہار ہو اور لوگوں کو اس پر ایمان پیدا ہو۔ایسا ایمان جو گناہ سے بچاتا ہے اور نیکیوں کے قریب کرتا ہے اور میں یہ بھی دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے مجھ پر لا انتہاء فضل اور انعام ہیں ان کی تحدیث مجھ پر فرض ہے۔پس میں جب کوئی کام کرتا ہوں تو میری غرض اور نیت اللہ تعالیٰ کے جال کا اظہار ہوتی ہے۔ایسا ہی اس آمین کی تقریب پر بھی ہوا ہے۔یہ لڑکے چونکہ اللہ تعالٰی کا ایک نشان ہیں اور ہر ایک ان میں سے خدا کی i i