تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 195 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 195

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۱۹۲ تعریف نبوت میں تبدیلی میں نبوت تشریعی کا ختم مراد ہے نہ کہ غیر تشریعی کا۔اور حضرت مرزا صاحب کو دوسرے تمام محمد دین امت میں نبی اللہ کہنا اس لئے جائز ہے کہ آپ کے الہامات کے علاوہ حدیث اور قرآن میں مسیح موعود کے متعلق نبی اور رسول کے لفظ موجود ہیں۔بالا خر واضح رہے کہ بانی سلسلہ احمدیہ نے جس قسم کی نبوت کا دعویٰ فرمایا ہے وہ نہ اجماع امت کے خلاف ہے اور نہ اس سے آنحضرت ا کی کسرشان ہوتی ہے بلکہ آپ کے دعوئی سے آنحضرت ﷺ کی اس ارفع اور اعلیٰ اور بلند ترین شان کا اظہار ہوتا ہے کہ آنحضرت ا کے خادموں اور غلاموں میں آپ کی پیروی اور آپ کے فیض کے واسطہ سے مقام نبوت مل سکتا ہے گویا آنحضرت ا صرف نبی ہی نہیں بلکہ نبی الانبیاء بھی ہیں اور مثال کے طور پر آپ محض روحانی بادشاہ ہی نہیں بلکہ روحانی شہنشاہ بھی ہیں جن کی ماتحتی اور غلامی میں روحانی بادشاہت کا مقام بھی حاصل کرنے والے لوگ پیدا ہوں گے۔اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى الِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى إِلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ فونوگراف کی ایجاد اور تبلیغ اسلام سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسلام کی عالمگیر اشاعت کا مقصد لے کر مبعوث ہوئے تھے اور یہ ایک عجیب اتفاق ہے کہ نشر و اشاعت کے کام میں مدد دینے والی اکثر و بیشتر اہم ایجادوں کا زمانہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دور حیات (۱۸۳۵ - ۱۹۰۸) کے گرد چکر لگاتا ہے۔ان میں سے ہر ایک ایجاد ایسی ہے جس کا وجود حضرت مسیح موعود کے بین الاقوامی مشن کو فروغ دینے کے لئے از بس ضروری تھا۔ان ایجادات میں سے ایک فونوگراف ہے جس کی ایجاد ۱۸۷۷ء میں ایڈسن نے کی مگر ہندوستان میں آئے ہوئے اسے چند سال ہوئے ہوں گے۔حضور کے مخلص خادم اور جماعت کی ایک برگزیدہ ہستی حضرت نواب محمد علی خان صاحب نے فونوگراف خریدا۔حضرت اقدس کو اکتو برا۱۹۰ء میں اس کی اطلاع ہوئی۔حضور جو دنیا میں اپنی آواز پہنچانے کی صبح و شام نئی نئی راہیں سوچتے تھے بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ "جب وفد نصیین جائے تو ہم اپنی ایک تقریر جو عربی زبان میں ہو اور قریباً چار گھنٹہ کے برابر ہو اس میں بند کر دیں جس میں ہمارے دعاوی اور دلائل بیان کئے جائیں۔اس کا فائدہ یہ ہو گا کہ جہاں جہاں یہ لوگ جائیں گے وہاں اس تقریر کو اس کے ذریعہ سنائیں۔اس سے عام تبلیغ ہو جائے گی اور گویا ہم ہی بولیں گے اور یوں مسیح کے سیاح ہونے کے معنی پورے ہو جا ئیں گے۔آج تک اس فونوگراف سے صرف کھیل کی طرح کام لیا گیا ہے مگر حقیقت میں خدا نے ہمارے لئے یہ ایجاد ر کھی ہوئی تھی اور بہت بڑا کام اس سے نکلے گا۔"