تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 194
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ (91 تعریف نبوت میں تبدیلی اخبارات سلسلہ میں جو مضامین شائع ہوئے ان میں حضرت اقدس کا یہ معجزہ بھی پیش کیا گیا کہ ایک نبی آیا جب کہ تمام قوم کا متفق طور سے یہ عقیدہ تھا کہ اب کوئی نبی نہ ہو گا اور پھر اس نے چار لاکھ انسان کو اپنا قبع بنالیا۔کیا یہ خدا کا فضل نہیں۔کیا ہمیں اس کلمتہ اللہ کی قوت قدسیہ د روحانیہ پر ایمان نہیں لانا چاہئیے۔۔" اشتہار کا اثر دو سروں پر مخالف علماء آپ پر اپنی اصطلاح کے مطابق دعوئی نبوت کا الزام دے رہے تھے حالانکہ ایسا دعویٰ حضور نے سرے سے کبھی کیا ہی نہیں تھا۔چنانچہ حضور نے ان کے الزام کا ذکر کرتے ہوئے اسی اشتہار کے آخر میں پوری وضاحت سے لکھا کہ " مخالف میری نسبت الزام لگاتے ہیں کہ یہ شخص نبی یا رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔مجھے ایسا کوئی دعوئی نہیں۔میں اس طور سے جو وہ خیال کرتے ہیں نہ نبی ہوں نہ رسول ہوں " مزید بر آں بعد میں بھی صاف لفظوں میں بتایا کہ ”میری مراد نبوت سے یہ نہیں ہے کہ میں نعوذ باللہ آنحضرت کے مقابل پر کھڑا ہو کر نبوت کا دعویٰ کرتا ہوں یا کوئی نئی شریعت لایا ہوں۔صرف مراد نبوت سے کثرت مکالمت و مخاطبت الہیہ ہے جو آنحضرت ا کی اتباع سے حاصل ہے۔سو مکالمہ مخاطبہ کے آپ لوگ بھی قائل ہیں۔پس یہ صرف لفظی نزاع ہوئی یعنی آپ لوگ جس امر کا نام مکالمہ و مخاطبہ رکھتے ہیں میں اس کی کثرت کا نام بموجب حکم الہی نبوت رکھتا ہوں۔ولكل ان يصطلح " اس تصریح و توضیح کے بعد آپ کے مخالف علماء کا اصولی طور پر فرض صرف یہ تھا کہ وہ آپ کی پیش فرموده تعریف نبوت کا عقل و نقل سے رد کر دکھاتے مگر انہوں نے اس سے قطعی گریز کیا اور اپنے نظریہ نبوت پر ہی قائم رہتے ہوئے بدستور یہ الزام قائم رکھا کہ (حضرت) مرزا صاحب نے اس اشتہار میں بھی دعوی نبوت و رسالت کیا ہے۔چنانچہ سلسلہ کے مخالف منشی الہی بخش صاحب اکو شٹ کے ساتھی حافظ محمد یوسف صاحب امرتسر نے اشتہار ” ایک غلطی کا ازالہ " پڑھتے ہی مولوی محمد احسن صاحب امروہوی کو لکھا کہ "کل میں نے اشتہار دیکھا جس میں مرزا صاحب نے دعوئی نبوت کا کیا ہے۔" حضرت مولوی محمد احسن صاحب نے اس کے جواب میں الحکم میں بڑا مفصل مضمون لکھا جس میں بتایا کہ آپ حضرات نہ دعوئی کو سمجھے نہ انکار کو۔کوئی ذرہ بھر عقل و دانش رکھنے والا انسان اس اشتہار میں جہاں انکار نبوت کے متعدد الفاظ موجود ہیں یہ نہیں کہہ سکتا کہ اس فنافی الرسول نے اس نبوت و رسالت کا دعویٰ کیا ہے جس کا انکار اجماع امت کر رہا ہے۔انہی دنوں ایک اور شخص نے اعتراضات کئے کہ مرزا صاحب کا دعوئی آیت خاتم النبیین اور لا نبی بعدی کے خلاف ہے اس کا جواب بھی انہی دنوں اخبار الحکم میں شائع کر دیا گیا کہ آیت و حدیث