تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 189
تاریخ احمدیت جلد ۲ تعریف نبوت میں تبدیلی محذور لازم نہیں آتا بالخصوص اس حالت میں کہ وہ امتی اپنے نبی متبوع سے فیض پانے والا ہو۔" اگرچہ " براہین احمدیہ " پنجم اور حقیقتہ الوحی " (جن کے اقتباسات اوپر دئے گئے ہیں ۱۹۰۱ء کے بعد کی کتابیں ہیں مگر دراصل اس تبدیلی کی بنیاد ۱۹۰۱ ء سے پڑی ہے اور اس کا پہلا تحریری اعلان ” ایک غلطی کا ازالہ " میں ہوا (جیسا کہ ذکر آرہا ہے، چنانچہ اس رسالہ کی اشاعت کے بعد حضور نے نبی کی ہمیشہ یوں تعریف بیان فرمائی کہ میرے نزدیک نبی اس کو کہتے ہیں جس پر خدا کا کلام یقینی و قطعی بکثرت نازل ہو جو غیب پر " مشتمل ہو۔" جب کہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت یا کی باقی نہ ہو اور کھلے طور پر امور غیبہ پر مشتمل ہو تو وہی دو سرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے جس پر تمام نبیوں کا اتفاق ہے۔" Δ΄ " خدا کی یہ اصطلاح ہے جو کثرت مکالمات و مخاطبات کا نام اس نے نبوت رکھا ہے۔" تعریف نبوت میں تبدیلی کا یہ نتیجہ بھی ہوا کہ آپ پر یہ حقیقت منکشف ہو گئی کہ آپ کا مقام محد ثیت کے مقام سے بالا ہے۔محدث کو نبوت جزوی طور پر حاصل ہوتی ہے اور آپ کو مقام نبوت علی وجہ الکمال حاصل ہے اس لئے حضور نے اپنے متعلق جزئی نبی یا ناقص نبی یا محض محدث کا اطلاق ہمیشہ کے لئے ترک فرما دیا۔لیکن یاد رہے آپ کے دعوی کی کیفیت میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی وہ شروع سے لے کر آخر تک ایک ہی رہا ہے کہ آپ خدا تعالیٰ کی ہمکلامی سے مشرف ہیں وہ بکثرت آپ سے ہم کلام ہوتا ہے اور آپ پر کثرت سے امور غیسہ کا اظہار کرتا ہے اسی حقیقت کا نام پہلے جزوی نبوت اور محد ثیت رکھتے تھے مگر بعد میں اسے نبوت کا مقام قرار دیا اور صاف اعلان فرمایا۔اس حصہ کثیر وحی الہی اور امور غیبیہ میں اس امت میں سے میں ہی ایک فرد مخصوص ہوں اور جس قدر مجھ سے پہلے اولیاء اور ابدال اور اقطاب اس امت میں سے گزر چکے ہیں ان کو یہ حصہ کثیر اس نعمت کا نہیں دیا گیا۔پس اس وجہ سے نبی کا نام پانے کے لئے میں ہی مخصوص کیا گیا۔اور دوسرے تمام لوگ اس نام کے مستحق نہیں کیوں کہ کثرت وحی اور کثرت امور غیبیہ اس میں شرط ہے اور یہ شرط ان میں پائی نہیں جاتی اور ضرور تھا کہ ایسا ہو تا تاکہ آنحضرت ا کی پیش گوئی صفائی سے پوری ہو جاتی۔کیوں کہ اگر دوسرے صلحاء جو مجھ سے پہلے گزر چکے ہیں وہ بھی اس قدر مکالمہ و مخاطبہ الیہ اور امور غیبیہ سے حصہ پالیتے تو وہ بھی نبی کہلانے کے مستحق ہو جاتے تو اس صورت میں آنحضرت