تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 188
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۱۸۵ تعریف نبوت میں تبدیلی امتی۔۔۔تا معلوم ہو کہ ہر ایک کمال مجھ کو آنحضرت ﷺ کی اتباع اور آپ کے ذریعہ سے ملا ہے۔" تبدیلی عقیدہ کا ذکر حضور کے قلم سے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس عظیم قلم سے الشان تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے "حقیقتہ الوحی" میں تحریر فرماتے ہیں۔اوائل میں میرا ایسی عقیدہ تھا کہ مجھ کو مسیح ابن مریم سے کیا نسبت ہے۔وہ نبی ہے اور خدا کے بزرگ مقربین میں سے ہے۔اور اگر کوئی امر میری فضیلت کی نسبت ظاہر ہو تا تو میں اس کو جزئی فضیلت قرار دیتا تھا مگر بعد میں جو خدا تعالیٰ کی وحی بارش کی طرح میرے پر نازل ہوئی اس نے مجھے اس عقیدہ پر قائم نہ رہنے دیا اور صریح طور پر نبی کا خطاب مجھے دیا گیا۔مگر اس طرح سے کہ ایک پہلو سے نبی اور ایک پہلو سے امتی۔" ان الفاظ سے سے صاف کھل جاتا ہے کہ مسئلہ نبوت میں آپ نے اپنے عقیدہ میں ضرور کوئی تبدیلی فرمائی ہے اور وہ بھی ” تریاق القلوب" اور ریویو جلد اول کے درمیانی زمانہ میں کیوں کہ حضور نے جس سوال کے جواب میں یہ لکھا ہے اس کا تعلق اسی دور سے ہے۔نیز ظاہر ہوتا ہے کہ آپ پہلے اس بناء پر کہ مسیح نبی ہے اور آپ غیر نبی مسیح سے اپنے تئیں افضل نہیں سمجھتے تھے لیکن خدا تعالیٰ کی وحی میں صریح طور پر نبی کا خطاب آپ کو دیا گیا تو آپ نے اس پہلے عقیدہ میں تبدیلی کرلی اور اپنے تئیں صراحتا صحیح معنوں میں نبی قرار دینے لگے۔تعریف نبوت میں تبدیلی کے نتائج تعریف نبوت میں تبدیلی سے پہلے حضور اسلامی اصطلاح کے لحاظ سے نبی و رسول کی یہ تعریف سمجھتے تھے کہ وہ کامل شریعت لاتے ہیں یا بعض احکام شریعت سابقہ کو منسوخ کرتے ہیں یا نبی سابق کی امت نہیں کہلاتے اور براہ راست بغیر استفاضہ کسی نبی کے خدا تعالٰی سے تعلق رکھتے ہیں۔" لیکن تعریف نبوت میں تبدیلی کے انکشاف کے بعد حضور علیہ السلام نے اس تعریف میں یہ ترمیم فرما دی کہ نبی کے لئے غیر امتی ہونا ضروری نہیں بلکہ آنحضرت ا کی پیروی اور افاضہ روحانیہ سے آپ کا امتی بھی مقام نبوت پاسکتا ہے۔چنانچہ آپ نے فرمایا۔یہ تمام بد قسمتی اس دھوکہ سے پیدا ہوئی ہے کہ نبی کے حقیقی معنوں پر غور نہیں کی گئی۔نبی کے معنی صرف یہ ہیں کہ خدا سے بذریعہ وحی خبر پانے والا ہو اور شرف مکالمہ اور مخاطبہ الہیہ سے مشرف ہو۔شریعت کا لانا اس کے لئے ضروری نہیں اور نہ یہ ضروری ہے کہ صاحب شریعت رسول کا متبع نہ ہو۔پس ایک امتی کو ایسا نبی قرار دینے سے کوئی "