تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 190 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 190

تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ۱۸۷ تعریف نبوت میں تبدیلی کی پیش گوئی میں ایک رخنہ واقع ہو جاتا۔اس خدا تعالیٰ کی مصلحت نے ان بزرگوں کو اس نعمت کو پورے طور پر پانے سے روک دیا تا جیسا کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ ایسا شخص ایک ہی ہو گا وہ پیش گوئی پوری ہو جائے۔" اس واضح اعلان کے علاوہ اہل عالم کو یہاں تک تحدی فرمائی کہ " خدا تعالیٰ نے اس بات کے ثابت کرنے کے لئے کہ میں اس کی طرف سے ہوں اس قدر نشان دکھلائے ہیں کہ اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کئے جائیں تو ان کی نبوت ثابت ہو سکتی ہے۔" حضرت اقدس نے تعریف نبوت کی تعریف نبوت میں تبدیلی کا پہلا تحریری اعلان تبدیلی کا سب سے پہلا تحریری اعلان ۵۔نومبر ۱۹۰۱ء کو اشتہار ایک غلطی کا ازالہ" کے ذریعہ سے فرمایا۔اشتہار " ایک غلطی کا ازالہ " کی تالیف کا فوری سبب یہ ہوا کہ نومبر ۱۹۰۱ء کے پہلے ہفتہ میں حضور کے ایک مخلص خادم حضرت شیخ غلام احمد صاحب واعظ پر امر تسر میں بعض غیر از جماعت دوستوں نے اعتراض کیا کہ جس سے تم نے بیعت کی ہے وہ نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔حضرت شیخ صاحب نے اس کا جواب محض انکار کے الفاظ سے دیا جو صحیح نہیں تھا۔حضرت اقدس کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے اشتہار لکھا کہ خداتعالی کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوتی ہے اس میں ایسے لفظ رسول اور مرسل اور نبی کے موجود ہیں نہ ایک دفعہ بلکہ صد ہاد فعہ بلکہ اس وقت تو پہلے زمانہ کی نسبت بھی بہت تصریح اور توضیح سے یہ الفاظ موجود ہیں اور براہین احمدیہ میں بھی جس کو طبع ہوئے بائیس برس ہوئے یہ الفاظ کچھ تھوڑے نہیں چنانچہ وہ مکالمات الہیہ جو براہین احمدیہ میں شائع ہو چکے ہیں ان میں سے ایک یہ وحی اللہ ب هو الذي ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهرة على الدين كله پھر یہ وحی اللہ ہے جو صفحہ ۵۵۷ براہین میں درج ہے دنیا میں ایک نذیر آیا اس کی دوسری قرات یہ ہے کہ ”دنیا میں ایک نبی آیا۔" نبی کے معنی لغت کی رو سے یہ ہیں کہ خدا کی طرف سے اطلاع پا کر غیب کی خبر دینے والا۔پس جہاں یہ معنی صادق آئیں گے نبی کا لفظ بھی صادق آئے گا۔" اگر خدا تعالیٰ سے غیب کی خبریں پانے والا نبی کا نام نہیں رکھتا تو پھر بتلاؤ کس نام سے اس کو پکارا جائے۔اگر کہو اس کا نام محدث رکھنا چاہئے تو میں کہتا ہوں کہ تحدیث کے معنی کسی لغت کی کتاب میں اظہار غیب نہیں ہیں۔مگر نبوت کے معنی اظہار غیب ہے اور نبی ایک لفظ ہے جو عربی اور عبرانی میں مشترک ہے۔یعنی عبرانی میں اس لفظ کو نابی کہتے ہیں اور یہ لفظ نابا سے مشتق ہے جس کے یہ معنی ہیں