تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 133
تاریخ احمدیت جلد ۲ منارة المسیح کی تحریک اور بنیاد فریقین لکھ چکیں تو وہ دو نو تفسیریں بعد دستخط تین اہل علم کو جن کا اہتمام حاضری و انتخاب پیر مہر علی شاہ صاحب کے ذمہ ہو گا سنائی جائیں گی اور ان ہر سہ مولوی صاحبوں کا یہ کام ہو گا کہ وہ حلفا یہ رائے ظاہر کریں کہ ان دونو تفسیروں اور دونو عربی عبارتوں میں سے کون سی تفسیر اور عبارت تائید روح القدس سے لکھی گئی ہے اور ضروری ہو گا کہ ان تینوں عالموں میں سے کوئی نہ اس عاجز کے سلسلہ میں داخل ہو اور نہ مہر علی شاہ کا مرید ہو۔اور مجھے منظور ہے کہ پیر مہر علی شاہ صاحب اس شہادت کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبد الجبار غزنوی اور مولوی عبد اللہ پر وفیسر لاہوری کو یا تین اور مولوی منتخب کریں جو ان کے مرید اور پیر نہ ہوں۔ضروری ہوگا کہ یہ تینوں مولوی صاحبان حلفا اپنی رائے ظاہر کریں کہ کس کی تغییر اور عربی عبارات اعلیٰ درجہ پر اور تائید الہی سے ہے لیکن یہ حلف اس حلف سے مشابہ ہونی چاہئے جس کا ذکر قرآن میں قذف محصنات کے باب میں ہے جس میں تین دفعہ قسم کھانا ضروری ہے اور دو نو فریق پر یہ واجب اور لازم ہو گا کہ ایسی تفسیر جس کا ذکر کیا گیا ہے کسی حالت میں ہیں ورق سے کم نہ ہو۔اور ورق سے مراد اس اوسط درجہ کی تقطیع اور قلم کا ہو گا جس پر پنجاب اور ہندوستان کے صد با قرآن شریف کے نسخے چھپے ہوئے پائے جاتے ہیں۔پس اس طرز کے مباحثہ سے اور اس طرز کے تین مولویوں کی گواہی سے اگر ثابت ہو گیا کہ در حقیقت پیر مہر علی شاہ صاحب تفسیر اور عربی نویسی میں تائید یافتہ لوگوں کی طرح ہیں اور مجھ سے یہ کام نہ ہو سکا یا مجھ سے (II) بھی ہو سکا مگر انہوں نے بھی میرے مقابلہ پر ایسا ہی کر دکھایا تو تمام دنیا گواہ رہے کہ میں اقرار کروں گا کہ حق پیر مہر شاہ صاحب کے ساتھ ہے اور اس صورت میں یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ اپنی تمام کتابیں جو اس دعوئی کے متعلق ہیں جلا دوں گا اور اپنے تئیں مخذول اور مردود سمجھ لوں گا۔لیکن اگر میرے خدا نے مجھے اس مباحثہ میں غالب کر دیا اور مہر علی شاہ صاحب کی زبان بند ہو گئی۔نہ وہ نصیح عربی پر قادر ہو سکے اور نہ وہ حقائق و معارف سورہ قرآنی میں سے کچھ لکھ سکے یا یہ کہ اس مباحثہ سے انہوں نے انکار کر دیا تو ان تمام صورتوں میں ان پر واجب ہو گا کہ وہ تو بہ کر کے مجھ سے بیعت کریں"۔حضرت اقدس نے اس اشتہار میں اپنے ہیں خدام کے بطور گواہ دستخط شائع کئے اور پیر صاحب سے کہا کہ وہ اس اشتہار کی وصولی کے بعد دس دن تک اشتہار کے ذریعے سے اپنی منظوری کا اعلان شائع کر دیں جس میں میرے اشتہار کی طرف سے میں معززین کی شہادت ثبت ہو اور مغلوبیت کی صورت میں اپنی بیعت کا اقرار بھی درج ہو۔121 پیر صاحب موصوف کا اشتہار پیر صاحب کو چونکہ علمی میدان میں آنے کی تاب نہ تھی نیز دہ صاف انکار کر کے اپنی حقیقت بھی واضح نہیں کرنا چاہتے