تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 134
تاریخ احمدیت۔جلد ۲ ١٣١ منارة المسیح کی تحریک اور بنیاد تھے اس لئے انہوں نے ۲۵۔جولائی کو اشتہار دیا کہ مجھ کو دعوت حاضری مسجد جلسہ منعقدہ لاہور مع شرائط مجوزہ مرزا صاحب بسر و چشم منظور ہے مگر سب سے پہلے ان کے دعوئی مسیحیت سے متعلق بحث ہوگی پھر اگر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور ان کے دونو ساتھیوں نے یہ رائے ظاہر کی کہ اس بحث میں وہ حق پر نہیں تو انہیں میری بیعت کرنا پڑے گی۔اس کے بعد تفسیر نویسی کے مقابلہ کی اجازت دی جائے گی۔صاف ظاہر ہے کہ یہ لفظ اقرار مقابلہ حقیقتاً مقابلہ سے کھلا انکار تھا اور حضور کی مقدس دعوت کی تفیک و تو ہین !! جس میں ایک ایسے شخص کو مباحثہ کے لئے ثالث مقرر کر دیا گیا جو اول المکفرین اور مسیح موعود کی مخالفت کے اعتبار سے پیر صاحب کا ہم مشرب تھا۔پھر پیر گولڑوی صاحب موصوف کا منقولی مباحثہ کے بعد مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور اس نوع کے دوسرے دو اشخاص کو از خود حکم بنالینا بھی ایک مضحکہ خیز بات تھی کیوں کہ یہ لوگ مسیح موعود علیہ السلام کی تکذیب کے معاملہ میں پہلے ہی پیر صاحب موصوف کے موید تھے۔مولوی محمد احسن صاحب نے ۱۴۔اگست ۱۹۰۰ء کو مولوی محمد احسن صاحب کا جواب اشتہار دیا کہ اگر پیر صاحب مقابلہ سے فرار نہیں کر رہے تو وہی تین علماء جو تفسیر قرآن کے لئے حضور نے نامزد کئے تھے حلفاً یہ شائع کر دیں کہ پیر صاحب کا یہ طریق تفسیر نویسی کے مقابل عجز کا ثبوت نہیں ہے اس کے بعد اگر ایک سال کے اندر مرزا صاحب کی تائید میں کوئی نشان ظاہر نہ ہوا تو پھر ہم مغلوب متصور ہوں گے۔اس کے علاوہ حضرت اقدس کے لاہور کے خدام نے اپنی انجمن فرقانیہ کی طرف سے ۱۹ اور ۲۰ اگست کو دو دفعہ اشتهار دیا کہ اگر پیر صاحب موصوف حضرت اقدس کی شرائط کے مقابل تفسیر لکھ لیں تاہم ایک ہزار روپیہ نقد بطور انعام پیر صاحب کی خدمت میں پیش کر دیں گے۔ان اشتہارت کے جواب میں ۲۱۔اگست کو پیر صاحب کی طرف سے دوبارہ اشتہار دیا گیا جس میں تفسیر نویسی کو ٹالنے کے لئے سارا زور مباحثہ پر ہی تھا اور ساتھ ہی مباحثہ کی تاریخ از خود ۲۵ اگست تجویز کر لی۔مریدوں کی طرف سے دھمکیاں مزید بر آن پیر صاحب کے بعد مرید آپے سے باہر ہو گئے اور انہوں نے حضرت اقدس کو دشنام آلود خطوں کا با قاعدہ ایک سلسلہ شروع کر دیا جن میں فحش گوئی اور گندہ زبانی کو انتہاء تک پہنچاتے ہوئے قتل کی دھمکیاں دی گئی تھیں جس سے صاف ظاہر ہو تا تھا کہ عوامی ذہن کو آپ کے خلاف مسموم کرنے کی خطرناک مہم تیز کر دی گئی ہے۔