تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 132
تاریخ احمدیت جلد ۲ منارة المسیح کی تحریک اور بنیاد ہزار ہا مرید یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ وہ علم اور حقائق اور معارف دین میں علوم ادبیہ میں اس ملک کے تمام مولویوں سے بڑھ کر ہیں بلکہ خود انہوں نے بھی شمس الہدایہ میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ قرآن مجید کی سمجھ ان کو عطا کی گئی ہے۔یہ امر کہاں تک درست ہے ؟ اس امر کا فیصلہ کے لئے میں ایک سہل طریق رکھتا ہوں اور وہ یہ کہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ جو لوگ در حقیقت خدا تعالیٰ کے راست باز بندے ہیں انہیں تین طریق سے خدا کی تائید ہوتی ہے۔(۱) مقابلہ کے وقت خدا تعالی ان سے خارق عادت سلوک کرتا ہے۔(و يجعل لكم فرقانا) (۲) ان کو علم معارف قرآن عطا کیا جاتا ہے۔(لا يمسه الا المطهرون) (۳) ان کی اکثر دعائیں شرف قبولیت پاتی ہیں۔(ادعونی استجب لكم) لهذا حق و باطل کے امتیاز کے لئے پیر صاحب موصوف تغیر نویسی میں علمی مقابلہ کرلیں جس کا طریق حضور نے یہ تجویز فرمایا کہ۔لاہور میں جو پنجاب کا صدر مقام ہے صادق اور کاذب کے پرکھنے کے لئے ایک جلسہ قرار دیا جائے اور اس طرح پر مجھ سے مباحثہ کریں کہ قرعہ اندازی کے طور پر قرآن شریف کی کوئی سورۃ نکالیں اور اس میں سے چالیس آیت یا ساری سورۃ (اگر چالیس آیت سے زیادہ نہ ہو) لے کر فریقین یہ دعا کریں کہ یا الہی ہم دونو میں سے جو شخص تیرے نزدیک راستی پر ہے اس کو تو اس جلسہ میں اس سورۃ کے حقائق اور معارف فصیح اور بلیغ عربی میں عین اسی جگہ میں لکھنے کے لئے اپنی طرف سے ایک روحانی قوت عطا فرما اور روح القدس سے اس کی مدد کر اور جو شخص ہم دو نو فریق میں سے تیری مرضی کے مخالف اور تیرے نزدیک صادق نہیں ہے اس سے یہ توفیق چھین لے اور اس کی زبان کو فصیح عربی اور معارف قرآنی کے بیان سے روک لے تالوگ معلوم کرلیں کہ تو کس کے ساتھ ہے اور کون تیرے فضل اور تیری روح القدس کی تائید سے محروم ہے۔پھر اس دعا کے بعد فریقین عربی زبان میں اس تفسیر کو لکھنا شروع کریں اور یہ ضروری شرط ہوگی کہ کسی فریق کے پاس کوئی کتاب موجود نہ ہو اور نہ کوئی مددگار۔اور ضروری ہو گا کہ ہر ایک فریق چپکے چپکے بغیر آواز سنانے کے اپنے ہاتھ سے لکھے تا اس کی فصیح عبارت اور معارف کے سننے سے دوسرا فریق کسی قسم کا اقتباس یا سرقہ نہ کر سکے اور اس تفسیر کے لکھنے کے لئے ہر ایک فریق کو پورے سات گھنٹے کی مہلت دی جائے گی اور زانو بہ زانو لکھنا ہو گا نہ کسی پردہ میں۔ہر ایک فریق کو اختیار ہو گا کہ اپنی تسلی کے لئے فریق ثانی کی تلاشی کر لے اس احتیاط سے کہ وہ پوشیدہ طور پر کسی کتاب سے مدد نہ لیتا ہو اور لکھنے کے لئے فریقین کو سات گھنٹہ کی مہلت ملے گی مگر ایک ہی جلسہ میں اور ایک ہی دن میں اس تفسیر کو گواہوں کے روبرو ختم کرنا ہو گا۔اور جب