تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 131 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 131

تاریخ احمدیت جلد ۲ IMA منارة المسیح کی تحریک اور بنیاد عبد الکریم صاحب جنہیں اشاعت اسلام کا ایک پر جوش جذ بہ عطا کیا گیا تھا اس دور نگی پر خاموش نہ رہ سکے اور انہوں نے ۲۴۔اپریل ۱۹۰۰ء کے اخبار الحکم میں یہ سب ہی مراسلات شائع کر دیے اور ان سوالات کے جوابات کا دوبارہ مطالبہ کرتے ہوئے اصل واقعات سے کچھ اس اندازہ سے نقاب اٹھایا کہ انی مهین من ارادا امانتک کا نظارہ سامنے آگیا۔اس مضمون کی اشاعت کے بعد باقاعدہ ایک محاذ قائم ہو گیا۔پیر صاحب نے اپنا پیچھا چھڑانے کے لئے مولوی محمد نمازی صاحب سے ایک اشتہار دلایا کہ " مولانا حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب" نے مولوی نورالدین صاحب کے سوالات کا جواب تو پہلے دن ہی لکھ رکھا تھا مگر بوجوہ اسے ان کی خدمت میں بھیجوایا نہیں گیا لیکن اب چونکہ الحکم میں ان استفسارات کے دوبارہ جواب طلب کئے گئے ہیں اس لئے وہ جو اب شائع کئے جاتے ہیں۔اس کے بعد پیر صاحب کے لکھے ہوئے جواب درج کئے۔یہ جوابات ان کے گزشتہ خطوط سے بھی زیادہ معمل تھے۔نہ الماء صحیح نہ انشاء نہ زبان درست نہ خیال 11 بے ربط اور بے جوڑا! سید محمد احسن مولوی سید محمد احسن صاحب کی طرف سے دعوت مباحثہ صاحب امروہوی اس سال جلسہ سالانہ پر حاضر نہیں ہو سکے تھے۔مخالفین نے اپنی خفت مٹانے کے لئے یہ خبر مشہور کردی کہ انہیں اب مرزا صاحب پر اعتقاد نہیں رہا۔سید صاحب کو اس کا علم ہوا تو وہ بھی دارالامان آپہنچے۔یہاں پیر صاحب نے بحث ہو رہی تھی انہوں نے کمال عقلمندی سے اپنے متعلق پراپیگنڈا کی عملی تردید کے لئے اس موقع کو غنیمت سمجھتے ہوئے "شمس الہدایہ " کا مفصل جواب لکھا جو انہی دنوں " شمس بازغہ " کے نام سے شائع بھی ہو گیا۔چونکہ مولوی محمد غازی صاحب نے شمس ہدایہ کے آخری صفحہ پر حضرت اقدس کو " بشرط کافی انتظام و اطمینان " مباحثہ کی دعوت بھی دی تھی اسلئے سید محمد احسن صاحب امرا ہوی نے تاریخ 9 جولائی ۱۹۰۰ ء پیر صاحب کو بذریعہ اشتہار اطلاع دے دی کہ میں مباحثہ کا - کے لئے تیار ہوں آپ اپنی طرف سے آمادگی کا اعلان فرما ئیں ورنہ ثابت ہو جائے گا کہ حق ہماری طرف ہے۔۱۴۵ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیر صاحب نے اس چینج کا از خود کوئی جواب نہ طرف سے تفسیر نویسی کے مقابلہ کا چیلنج دیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جو اس وقت پیر صاحب کے ذاتی جواب کے منتظر تھے براہ ر است پیر صاحب سے مخاطب ہوئے اور ۲۰۔جولائی ۱۹۰۰ء کو اشتہار دیا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب کے