تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 130 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 130

ت جلد ۲ منارة المسیح کی تحریک اور بنیاد اپنے حسن ظن کے مطابق آپ کے سامنے بیان کیا ہو گاورنہ من آنم کہ من دانم۔مولوی صاحب نے اپنی سعی اور اہتمام سے کتاب شمس الہدایتہ کو مطبوع اور تالیف فرمایا ہاں احیانا اس بے بیچ سے بھی اتفاق استفسار بعض مضامین میں ہوا۔جس وقت مولوی صاحب واپس آئیں گے کیفیت کتب مسئولہ اور جواب سرفراز نامہ اگر اجازت ہوئی تو لکھیں گے۔اللہ تعالی جانبین کو صراط مستقیم پر ثابت رکھے زیادہ سلام۔نیازمند علماء و فقراء مهر شاه - ۲۶ شوال ۵۱۳۱۷ B - " (مطابق ۲۸ مارچ ۱۹۰۰ء)۔لدا پیر صاحب نے نہایت سادگی سے اصل بات تو لکھ دی مگر جب ان کے مریدوں میں اس کے عام چرچے ہوئے تو انہیں اپنے مریدوں کے کھسکنے کا زبر دست خطرہ پیدا ہو گیا۔چنانچہ انہوں نے اپنے واضح بیان پر پردہ ڈالنے کے لئے عجیب عجیب تو جیہات کرنا شروع کر دیں۔چنانچہ ایک مرید عبد الہادی نامی کو لکھا ” آپ بے فکر رہیں۔کوئی فقرہ حکمت اور صداقت سے انشاء اللہ خالی نہ ہو گا۔لفظ تالیف اور طبع کے معنی نہ سمجھنے سے انہوں نے کہا جو کچھ کہا۔و هولنا و علیهم سيظهر ـ ان سے یہ پوچھنا کہ ایجاد مضامین اور تالیف میں عموم خصوص من وجہ ہوا کرتا ہے۔بھلا مجھ کو یہ بتاؤ کہ دوسرا کاغذ جو مولونی rr نور الدین صاحب کو پہنچا ہے ذرا اس کی نقل بھی منگوا کر ملاحظہ کرو۔والسلام - مہر شاہ بقلم خود۔" ایک دو سرے مرید غلام محمد کلرک دفتر کو شٹ پنجاب کو لکھا ” مولوی نور الدین کی درخواست کے بارہ میں نیز وصف میرے علم کے جو کہ ان کو بذریعہ احباب پہنچی تھی اس کے بارہ میں نے لکھا تھا جس کا مضمون یہ ہے کہ میں تو اتنا علم نہیں رکھتا ہوں احباب نے حسن ظن کے مطابق تعریف کی ہوگی اور کتاب کے بارہ میں مولوی محمد غازی صاحب جب واپس آئے تو لکھیں گے کیوں کہ تجسس اور دیکھنا ان کے متعلق تھا میں مضامین غیر مرتبہ بسا اوقات ان کو دیتا رہا اور تالیف یعنی جمع و ترتیب و طبع کرانا یہ سب ان کے متعلق تھی۔جناب مولوی نور الدین صاحب نے تالیف سے جو منسوب مولوی محمد غازی صاحب کی طرف کی گئی تھی اور فی الواقعہ یونسی تھا یہ سمجھ لیا کہ موجد مضامین اور مصنف مولوی صاحب فلاں نے یعنی میں نے اس کی تصنیف اور ایجاد سے انکار کیا تھا کبھی مولف اور موجد ایک ہی ہوتا ہے اور کبھی مختلف۔میں نے باعث کم فرصتی کے جمع اور ترتیب بمعہ مطالع کتب ان کے ذمہ پر رکھا تھا۔الغرض جو مطلب تھا یعنی لوگوں کا دھو کہ نہ کھانا وہ تو بفضل خدا بخوبی حاصل ہو گی بذریعہ خطوط روز مرہ مقبولیت کتاب معلوم ہوتی رہتی ہے باقی زید و عمرو سے کچھ غرض نہیں زیادہ سلام۔" حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی طرف سے خطوط کی اشاعت ام حضرت مولوی