تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 129
تاریخ احمدیت جلد ۲ ۱۲۶ منارة المسیح کی تحریک اور بنیاد وفات اا۔مئی ۱۹۳۷ء) یہ پیر صاحب چشتی سلسلہ سے تعلق رکھتے تھے اور انہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ابتداء ایک گونہ عقیدت بھی تھی چنانچہ ۹۷-۱۸۹۶ء کی بات ہے کہ ان کے ایک مرید بابو فیروز علی صاحب اسٹیشن ماسٹر گولڑہ نے (جو بعد ازاں حضرت اقدس کی بیعت میں داخل ہو گئے) جب ان سے حضور کی بابت رائے دریافت کی گئی تو انہوں نے بلا تامل جواب دیا " امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمتہ فرماتے ہیں کہ بعض مقامات منازل سلوک میں ایسے ہیں کہ وہاں اکثر بندگان خدا پہنچ کر مسیح و مہدی بن جاتے ہیں بعض ان کے ہم رنگ ہو جاتے ہیں۔یہ میں نہیں کہہ سکتا کہ یہ شخص منازل سلوک میں اس مقام پر ہے یا حقیقتاً وہی مہدی ہے جس کا وعدہ جناب سرور کائنات علیہ الصلوۃ والسلام نے اس امت سے کیا ہے۔مذاہب باطلہ کے واسطے یہ شخص شمشیر براں کا کام کر رہا ہے۔اور یقینا تائید یافتہ ہے۔" اس کے کچھ عرصہ بعد وہ اپنے گزشتہ صوفیانہ عمل کو چھوڑ پیر صاحب میدان مخالفت میں کر میدان مخالفت میں آگئے اور جنوری ۱۹۰۰ء میں حضرت اقدس کے خلاف اردو میں "شمس الہدایہ فی اثبات حیات المسیح " کتاب شائع کی۔یہ کتاب جب حضرت مولوی نور الدین صاحب کو پہنچی تو انہیں بڑا قلق ہوا۔زیادہ تعجب حضرت مولوی صاحب کو اس پر ہوا کہ کچھ عرصہ قبل پیر صاحب ہی نے ان کے نام دو کارڈ لکھے تھے جن میں حضرت اقدس کا تذکرہ عقیدت مندانہ الفاظ میں موجود تھا جس کی وجہ سے حضرت مولوی صاحب کو خود پیر صاحب سے ملنے کا اشتیاق پیدا ہو چکا تھا۔بہر حال اب جو ان کی طرف سے یہ کتاب پہنچی تو حضرت مولوی صاحب نے پیر صاحب کے نام (۱۸۔فروری ۱۹۰۰ ء کو ایک مراسلہ لکھا جس میں پیر صاحب سے گیارہ سوالات کئے جو ابتدائی مطالعہ سے آپ کو پیدا ہوئے تھے۔"شمس الہدایہ میں ابن جریر اور تاریخ کبیر بخاری کے حوالے دئے گئے تھے جن کے متعلق آپ نے ان سے دریافت فرمایا کہ آپ نے وہ خود ملاحظہ کی ہیں اور کیا آپ کے کتب خانہ میں موجود ہیں؟ چند دن بعد پیر صاحب کا جواب آیا تو اصل حقیقت کا پتہ چلا کہ یہ کتاب تو ان کے ایک مرید مولوی محمد نمازی صاحب کی تالیف کردہ ہے مگر مرید نے کتاب شائع کروا کر اسے " زبدة الحقیقین د رئیس العارفین مولانا حضرت خواجہ مہر علی شاہ صاحب ادام الله فیوضم " کی طرف منسوب کر دیا ہے۔چنانچہ پیر صاحب نے لکھا۔مولانا المعظم المكرم السلام علیکم و رحمتہ اللہ۔اما بعد مولوی محمد غازی صاحب کتب حدیث و تغییر اپنی معرفت سے پیدا کر کے ملاحظہ فرماتے رہے ہیں۔مولوی صاحب موصوف آج کل دولت خانہ کو تشریف لے گئے ہیں۔مولوی غلام محی الدین اور حکیم شاہ نواز وغیرہ احباب نے میری نسبت "