تاریخ احمدیت (جلد 2)

by Other Authors

Page 128 of 687

تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 128

تاریخ احمدیت جلد ۲ ۱۲۵ منارة المسیح کی تحریک اور بنیاد جیسا کہ تعمیر مینار کے بعد اسلام کے روحانی مینار کی شعاعیں دنیا کے کناروں تک حضور نے پہلے سے خبر دی تھی کہ مینار کی تکمیل کے بعد برکات اسلام کی روشنی تیزی سے پھیل جائے گی چنانچہ بیچ بیچ جو نہی اس کی تعمیر مکمل ہوئی تبلیغ اسلام کی دنیا میں ایک نیا انقلابی دور شروع ہو گیا۔لجه النور" کی تصنیف و اشاعت سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسی سال عرب، شام، عراق اور ایران و غیره بلاد اسلامیه کو پیغام پہنچانے کی غرض سے عربی میں ایک رسالہ تصنیف فرمایا جس کا نام "لجہ النور " رکھا۔اس رسالہ میں عالم اسلام کا اس وقت کی حالت کا درد ناک نقشہ کھینچتے ہوئے اپنے دعوی کی صداقت میں دلائل و براہین دیئے ہیں اور آخر میں پادریوں کے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے خوش خبری دی ہے کہ خدا تعالی نے میرے ہتھیاروں سے انہیں ہر مہم میں پسپا کر ڈالا ہے اور وہ میدان سے بھاگنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔اس کتاب کی یہ خصوصیت ہے کہ حضور نے اس میں اپنے تئیں ابو محمود احمد کی کنیت سے یاد کرتے ہوئے دوسرے خدائی افضال میں سے خاص طور پر اس نعمت کا بھی ذکر فرمایا ہے کہ انسان بعض اوقات اس خیال سے سخت افسردہ خاطر اور غمگین رہتا ہے کہ اس کی وفات کے بعد اس کا کوئی بیٹا وارث موجود نہیں ہے مگر مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ایک لمحہ کے لئے بھی یہ غم نہیں ہوا کیوں کہ اس نے اپنی جناب سے بیٹے عطا کئے ہیں جو میرے بعد دین اسلام کی خدمت کریں گے۔21 اس رسالہ میں حضور نے یہ عظیم الشان پیش گوئی بھی فرمائی ہے کہ اللہ تعالٰی میرا کلام دنیا کے شرق و غرب میں پہنچا دے گا اور راستی کے دریا تموج میں آئیں گے یہاں تک کہ ان کی موجوں کے حباب لوگوں کو حیرت میں ڈال دیں گے۔اشاعت لجہ النور" کی اشاعت حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد فروری ۱۹۱۰ ء میں نامکمل صورت میں ہوئی۔پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کو علمی مقابلہ کی دعوت اور ان کا گریز ۱۸۹۶ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جن سجادہ نشینوں کو نام لے کر مباہلہ کی طرف بلایا تھا ان میں گولڑہ (ضلع راولپنڈی) کے ایک نامی گرامی پیر مہر علی شاہ صاحب بھی تھے (ولادت قریباً ۱۸۳۷ء