تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 122
د جلد ا 119 مارہ المسیح کی تحریک اور بنیاد پردہ خود کرلیویں۔ان لوگوں کو چاہئے تھا کہ مذہبی امور میں ہم سے دل بستگی ظاہر کرتے اور اس امر میں ہماری امداد کرتے۔اگر یہ لوگ اپنا معبد بلند کرنا چاہیں تو کیا ہم اسے روک سکتے ہیں۔مجھے ان لوگوں پر بار بار افسوس آتا ہے کہ ہمارے دل میں تو ان کی ہمدردی ہے بیماریوں میں ہم ان کا علاج کرتے ہیں۔ہر ایک ان کی مصیبت میں شریک ہوتے ہیں۔انہی سے پوچھا جاوے کہ کبھی ان کے مذہبی معاملات میں میں نے ان سے نقیض کی ہے۔اب میں ایسا فعل کیوں کرنے لگا جس سے ان کو بھی نقصان ہو اور مجھے بھی کیوں کہ مینار پر چڑھ کر جیسے اوروں کے گھر پر نظر پڑے گی ویسے ہی ہمارے گھر پر بھی پڑے گی۔المختصر حضرت اقدس کے اس مفصل بیان کے بعد فریقین کی تحریری شہادتوں سے یہ بات پایہ ثبوت تک پہنچ گئی کہ یہ شکایت محض تعصب اور مخالفت پر مبنی ہے۔بنا بریں میجر ڈلس ڈپٹی کمشنر گوردار سپور نے ۱۶ / اپریل ۱۹۰۳ء کو یہ مقدمہ خارج کر دیا۔مالی مشکلات کے باعث کام کا رک جانا مینار کی تکمیل کے ساتھ خدا تعالی کی طرف سے بہت سی برکات کا نزول وابستہ تھا اور اس لئے حضور اسے جلد سے جلد مکمل ہوتا دیکھنا چاہتے تھے۔مگر دلی خواہش و تمنا کے باوجود مالی مشکلات کے باعث تعمیر کا کام رک گیا۔تب حضور نے اپریل ۱۹۰۵ء میں جماعت کے مخلصین سے چندہ خاص کی تحریک فرمائی اور ارشاد فرمایا کہ اس وقت پانچ ہزار کی ضرورت ہے۔اگر پانچ ہزار دوست ایک ایک روپیہ دیں تو یہ رقم جمع ہو سکتی ہے۔مگر الی تنگی کے باعث اس تحریک کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ بر آمد نہ ہوا۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی کی روایت ہے کہ جب مینار کا کام (فنڈ کی کمی کے باعث) بند پڑا رہا تو ایک دن کسی شخص نے سوال کیا کہ حضور یہ مینار کب تیار ہو گا؟ حضور نے فرمایا۔اگر سارے کام ہم ہی ختم کر جاویں تو پیچھے آنے والوں کے لئے ثواب کہاں سے ہو گا؟ II چنانچہ یہی ہوا کہ حضور کی زندگی میں مینار کی عمارت صحن مسجد کی سطح سے چھ فٹ سے زیادہ بلند نہ ہو سکی۔حضور کے عہد مبارک میں مینار کے تکمیل تک نہ پہنچنے کی وجہ بتاتے ایک خلاف واقعہ بیان ہوئے ڈاکٹر بشارت احمد صاحب مولف "محمد واعظم " نے لکھا ہے کہ ڈپٹی کمشنر گورداسپور کو جب اطمنان ہو گیا تو اس نے تعمیر کی اجازت دے دی لیکن حضرت اقدس نے اجازت آجانے کے باوجود اس کی تعمیر کو ادی اور پھر اس کی طرف سے آپ کی توجہ بالکل ہٹ گئی یہاں تک کہ آپ اس جہان سے گزر گئے۔ظاہر ہے کہ اس کی تعمیر رک جانے کی وجہ مالی تنگی تو نہیں ہو سکتی تھی۔بعد میں جماعت اس قدر بڑھ گئی تھی اور چندہ اس کثرت سے آنے لگا تھا کہ حضرت اقدس چاہتے تو ایسے کئی منارے بنوا سکتے تھے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی اشارہ غیبی یا القائے ربانی نے آپ