تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 121
تاریخ احمدیت جلد ۲ IIA سنارة المسیح کی تحریک اور بنیاد رکھ دیں۔حکیم صاحب موصوف اور دوسرے احباب یہ مبارک اینٹ لے کر جب مسجد اقصیٰ پہنچے تو راستہ میں مولوی عبد الکریم صاحب نماز جمعہ پڑھا کر واپس آرہے تھے۔مولوی صاحب کا معمول تھا کہ نماز جمعہ سے فارغ ہو کر دیر تک مسجد اقصیٰ میں بیٹھتے تھے۔علم و حکمت کی یہ بڑی پر کیف محفل ہوتی تھی جس میں باہر سے آنے والے احباب آپ کے گرد جمع ہو جاتے اور آپ سے استفادہ کرتے تھے۔اس دن بھی حسب معمول دیر سے آرہے تھے۔راستہ میں جب یہ حال آپ کو معلوم ہوا تو آپ رقت سے بھر گئے اور یہ اینٹ لے کر اپنے سینہ سے لگائی اور بڑی دیر تک دعا کرتے رہے اور فرمایا کہ یہ آرزو ہے کہ یہ کام فرشتوں میں شہادت کے طور پر رہے۔آخر وہ اینٹ فضل الدین صاحب احمدی معمار نے بنیاد کی مغربی حصہ میں پیوست کر دی اور حضرت میر ناصر نواب صاحب اس کام کے نگران مقرر ہوئے۔مینار کی بنیاد بہت گہری وسیع و عریض اور کنکریٹ کے ذریعہ سے مضبوط کر کے اٹھائی گئی۔مینار کے متعلق مقامی ہندوؤں کی حکومت کو شکایت قادیان کے ہندو مخالفیں نے اس موقعہ پر یہ شرارت اٹھائی کہ حکومت کے افسروں سے شکایتیں کیں کہ مینار کے بننے سے ہمارے مکانوں کی پردہ دری ہو گی۔یہ معاملہ اس درجہ نازک صورت اختیار کر گیا کہ گورنمنٹ کی طرف سے تحصیل دار بٹالہ کو اس کی تحقیقات کے لئے قادیان بھیجوایا گیا۔یہ ۸۔مئی ۱۹۰۳ء کا واقعہ ہے۔حضور اس وقت میر پر تشریف لے گئے تھے۔کوئی آدھ گھنٹہ بعد جب حضور واپس پہنچے تو تحصیل دار صاحب ملاقات کے لئے آئے اور سوال کیا کہ منار کیوں بنوایا جاتا ہے۔حضور اقدس نے جواباً فرمایا کہ اس منار کی تعمیر میں ایک یہ بھی برکت ہے کہ اس پر چڑھ کر خدا کا نام لیا جائے گا۔اور جہاں خدا کا نام لیا جاتا ہے وہاں برکت ہوتی ہے۔چنانچہ آج کل اس لئے سکھوں نے بھی اذانیں دلوائی ہیں اور مسلمانوں کو اپنے گھروں میں بلا کر قرآن پڑھوایا ہے۔پھر اس کے اوپر ایک لائٹیں بھی نصب کی جاوے گی جس کی روشنی دور دور تک نظر آوے گی۔سنا گیا ہے کہ روشنی سے بھی طاعونی مواد کار فعیہ ہوتا ہے اور ایک گھڑیال بھی اس پر لگایا جائے گا۔مجھے حیرت ہے کہ یہاں کے ہندوؤں کے ساتھ ہم نے آج تک برادرانہ برتاؤ رکھا ہے اور یہ لوگ ہمارے مزار کی تعمیر پر اس قدر جوش و خروش ظاہر کر رہے ہیں۔اس مسجد کو ہمارے مرزا صاحب (حضور کے والد صاحب ناقل) نے سات سو روپے کو خریدا تھا اور اس مینار کی تعمیر میں صرف مسجد ہی کے لئے مفید بات نہیں ہے بلکہ عوام کو بھی فائدہ ہے۔یہ خیال کہ اس سے بے پردگی ہو گی یہ بھی غلط ہے۔اب ہمارے سامنے ڈپٹی شنکر و اس صاحب کا گھر ہے اور اس قدر اونچا ہے کہ آدمی اوپر چڑھے تو ہمارے گھر میں اس کی نظر برابر پڑتی ہے تو کیا اب ہم کہیں کہ اسے گرا دیا جائے بلکہ ہم کو چاہئے کہ اپنا