تاریخ احمدیت (جلد 2) — Page 123
تاریخ احمد مرد جلد ۲ ۱۲۰ منارة المسیح کی تحریک اور بنیاد کی توجہ اس طرف سے ہٹا کر اس روحانی مینار کی طرف پھیر دی جو دراصل آپ کے علم کلام اور بے بہا لٹریچر کے ذریعہ تیار ہو رہا تھا۔مولف "مجد داعظم " کے اس بیان میں تین باتیں نمایاں ہوتی ہیں۔اول۔اجازت ملنے کے باوجود حضور نے از خود میتار کی تعمیر رکوادی۔دوم - تعمیر مالی تنگی کے باعث نہیں رک سکتی تھی اس لئے کہ بعد ازاں اس کثرت سے چندہ آنے لگا تھا کہ حضور چاہتے تو ایسے کئی منارے بنوا سکتے تھے۔سوم دراصل کسی اشارہ غیبی یا القائے ربانی نے آپ کی توجہ ظاہری مینار سے ہٹا کر روحانی مینار کی طرف کردی تھی۔افسوس یہ تینوں دعاوی واقعات کے صریح خلاف اور محض مفروضات ہیں نہ تو اس بات میں کچھ صداقت ہے کہ حضور نے اجازت آنے کے بعد از خود اس کی تعمیر کوا دی بلکہ اس کے بر عکس حضور کو آخر دم تک اس مینار کا خیال رہا حتی کہ ۱۹۰۵ ء میں بھی جب کہ قرب وصال کے الہامات نازل ہو رہے تھے حضور کو اس طرف توجہ تھی جیسا کہ اوپر ذکر ہو چکا ہے۔اس طرح یہ نظریہ کہ بعد میں چندے اتنی کثرت سے آنے شروع ہو گئے تھے کہ ایسے کئی منارے بنوائے جاسکتے تھے یہ بھی بے بنیاد بات ہے۔الحکم ۱۹۰۷۸ء سے تو پتہ چلتا ہے کہ حضرت اقدس کی زندگی کے آخری دنوں میں لنگر خانہ کے اخراجات بھی بار بار کی تحریک کے باوجود پورے نہیں ہو رہے تھے بلکہ مالی مشکلات کا یہ عالم تھا کہ ان دنوں باورچی خانہ کو نئے مہمان خانہ سے منتقل کرنے کے لئے نئے کچے مکانات بنوائے جا رہے تھے جو فنڈ کی کمی کے باعث روکنے پڑے۔پھر مولف "مجدد اعظم" کا یہ دعویٰ کہ بعد میں القائے ربانی نے حضور کی توجہ ظاہری مینار سے ہٹا کر روحانی مینار کی طرف منعطف کرادی تھی سلسلہ کے لٹریچر سے ہر گز ثابت نہیں۔اور اگر اسے ایک لو کے لئے تسلیم کر لیا جائے تو منارة المسیح کی تحریک محض لغو چیز قرار پاتی ہے اور حضور کے مخالف علماء جنہوں نے شروع میں ہی اس کی مخالفت کی تھی حق پرست ماننا پڑتے ہیں حالانکہ حضرت اقدس صاف لکھتے ہیں یہ مینار وہ مینار ہے جس کی ضرورت احادیث نبویہ میں تعلیم کی گئی۔" نیز فرماتے ہیں۔"خدا نے منارہ کا حکم دیا ہے۔سوال یہ ہے آخر وہ القائے ربانی کہاں ہے؟ جس نے خدا کے اس پہلے حکم کو منسوخ کر دیا۔پس حقیقت یہی ہے کہ مینار کی تعمیر کے بند کرنے کا حقیقی اور واقعاتی سبب اخراجات کی کمی تھا۔اگر تعمیر مینار کی مد میں کافی رقم فراہم ہو جاتی تو حضور اپنی زندگی میں ہی اسے مکمل کردار ہے