تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 81 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 81

تاریخ احمدیت جلدا A۔قیام سیالکوٹ اور تبلیغ اسلام امور کی نگرانی اور مقدمات کی پیروی کے کام سپرد کر دیے۔لیکن کچھ عرصہ بعد جب انہوں نے شدت محسوس کیا کہ ان مخمصوں سے بھی ان کی طبیعت کو کوئی مناسبت نہیں ہے اور جو کچھ توجہ اس میں ہے محض امتثال حکم کی خاطر ہے تو انہوں نے ایک بار پھر ملازمت کی تلاش شروع کر دی اور ایک برادر زادہ کی تحریک پر حضور کو سید محمد علی شاہ صاحب کلانوری کے ہمراہ ریاست جموں میں ملازمت کے لئے بھجوا دیا جہاں آپ خود ایک معزز عہدہ پر رہ چکے تھے۔چنانچہ حضرت اقدس اور سید محمد علی صاحب کلانور کے رستہ جموں تشریف لے گئے۔سفر میں آپ کی توجہ الی اللہ اور استغراق اور محویت کا یہ عالم تھا کہ کلانور کے نالے سے گذرتے ہوئے آپ کی جوتی کا ایک پاؤں نکل گیا مگر آپ کو پتہ بھی نہ چلا جب تک بہت دور جا کر آپ کو یاد نہیں کرایا گیا۔آخر جموں پہنچے۔یہاں جتنے دن رہے نماز اور قرآن شریف کی تلاوت میں وقت گزارا۔چند روز بعد حضور کا ایک رشتہ دار جموں پہنچا اور دونوں کو واپس قادیان لے آیا۔اب تک اگر چہ آپ کے والد پر آپ کے طبعی رجحانات اور ملازمت سے حقارت آمیز جذبہ کا علم پوری طرح کھل کر سامنے آچکا تھا مگر اس کے باوجود وہ اپنے ارادہ کی تکمیل پر اور زیادہ مصر ہو گئے اور بالا تر ۱۸۷۴ء میں انہوں نے حضور کو سیالکوٹ میں متفرقات کی اسامی پر ملازم کر ہی دیا۔اس زمانہ میں آپ کو دیکھنے والوں کا بیان ہے کہ اس وقت حضور کی میں بھیگ رہی تھیں " ملازمت میں خدائی صمتیں حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کا یہ فیصلہ بے وجہ نہیں تھا یا بلکہ خدا تعالیٰ کی عمیق در عمیق حکمتوں کا کرشمہ تھا۔کیونکہ خدا تعالیٰ چاہتا تھا کہ آپ اصلاح خلق کرنے کے لئے عدالتی جھمیلوں اور مقدمہ بازی کے مختلف انسانی شعبدوں کا مشاہدہ کرنے کے بعد دنیا داری کے اس گندے ماحول کو بھی دیکھ لیں جو نوکری پیشہ لوگوں کا ماحول ہے۔اور جس میں خدا کے بندے تو خال خال نظر آتے ہیں مگر کسب حرام کے مکروہ اور شرمناک ہتھکنڈے استعمال کرنے والوں میں کمی نہیں ہے۔حضور خود فرماتے ہیں: اس تجربہ سے مجھے معلوم ہوا کہ اکثر نوکری پیشہ نہایت گندی زندگی بسر کرتے ہیں ان میں بہت کم ایسے ہوں گے جو پورے طور پر صوم و صلوۃ کے پابند ہوں اور جو ان ناجائز حظوظ سے اپنے تئیں بچا سکیں جو ابتلاء کے طور پر ان کو پیش آتے رہتے ہیں میں ہمیشہ ان کے منہ دیکھ کر حیران رہا اور اکثر کو ایسا پایا کہ ان کی تمام دلی خواہشیں مال و متاع تک خواہ حلال کی وجہ سے ہوں یا حرام کے ذریعہ سے محدود تھیں اور بہتوں کی دن رات کی کوششیں صرف اسی مختصر زندگی کی دنیوی ترقی کے لئے مصروف پائیں۔میں نے ملازمت پیشہ لوگوں کی جماعت میں بہت کم ایسے لوگ پائے کہ جو محض خدا تعالیٰ کی عظمت کو یاد