تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 80
تاریخ احمدیت جلدا 49۔قیام سیالکوٹ اور تبلیغ اسلام باب ششم سیالکوٹ میں قیام اور تبلیغ اسلام کی مہم کا آغاز (۱۸۶۷ - ۱۸۶۴) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام ابھی تعلیمی دور ہی میں تھے کہ آپ کے والد بزرگوار کو یہ خیال دامن گیر ہو گیا کہ آپ کو کسی موزوں سرکاری ملازمت میں جگہ دلا دیں بلکہ ۱۸۵۲ء میں جب بند و بست شروع ہوا تو انہوں نے دینا نگر میں جہاں ضلع گورداسپور کے بندوبست کا مرکزی دفتر قائم ہوا تھا آپ کو ملازم بھی کرا دیا۔مگر حضور علیہ الصلوۃ والسلام کو چونکہ ابتداء ہی سے ان امور سے بالطبع سخت نفرت تھی اس لئے آپ صرف ایک دن کے قیام کے بعد واپس قادیان تشریف لے آئے۔آپ کا زمانہ تعلیم ختم ہو ا تو ان کے دل میں یہ خیال پھر چٹکیاں لینے لگا۔اسی اثناء میں ضلع گورداسپور میں ایک انگریز افسروارد ہو ا جس سے حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب مرحوم کو پہلے سے تعارف اور راہ و رسم تھی۔انہوں نے یہ موقعہ غنیمت سمجھتے ہوئے کاہلواں کے ایک سکھ جھنڈا سنگھ سے کہا کہ ”جاؤ غلام احمد کو بلا لاؤ۔ایک انگریز حاکم میرا واقف ضلع میں آیا ہے اس کا منشاء ہو تو کسی اچھے عہدے پر نوکر کرادوں"۔جھنڈا سنگھ کا بیان ہے کہ ” میں مرزا صاحب کے پاس گیا تو دیکھا کہ چاروں طرف کتابوں کا ڈھیر لگا کر اس کے اندر بیٹھے ہوئے کچھ مطالعہ کر رہے ہیں۔میں نے بڑے مرزا صاحب (یعنی حضرت مرز اغلام مرتضی صاحب مرحوم - ناقل) کا پیغام پہنچا دیا۔مرزا صاحب آئے اور جواب دیا ” میں تو نوکر ہو گیا ہوں" بڑے مرزا صاحب کہنے لگے کہ اچھا کیا واقعی نوکر ہو گئے ہو ؟ مرزا صاحب نے کہا ہاں ہو گیا ہوں۔اس پر بڑے مرزا صاحب نے کہا کہ اچھا اگر نو کر ہو گئے ہو تو خیر ہے "۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے جواب کا صاف مطلب یہی تھا کہ مجھے کسی دنیاوی حکومت کی نوکری کی ضرورت نہیں کیونکہ میں آسمانی بادشاہت اور اس کے گورنر جنرل حضرت محمد عربی ﷺ کا نوکر ہو گیا ہوں۔یہ مختصر جواب اتنا پر کیف تھا کہ آپ کے والد بزرگوار خاموش ہو گئے۔اور پھر یہ معلوم کر کے کہ ان سے انگریزی حکومت کی ملازمت کی توقع عبث ہے آپ کو زمینداری