تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 82
تاریخ احمدیت جلدا Al قیام سیالکوٹ اور تبلیغ اسلام کر کے اخلاق فاضلہ علم اور کرم اور عفت اور تواضع اور انکسار اور خاکساری اور ہمدردی خلق اور پاک باطنی اور اکل حلال اور صدق مقال اور پرہیز گاری کی صفت اپنے اندر رکھتے ہوں۔بلکہ بہتوں کو تکبر اور بد چلنی اور لا پرواہی دین اور طرح طرح کے اخلاق رذیلہ میں شیطان کے بھائی پائے اور چونکہ خدا تعالی کی یہ حکمت تھی کہ ہر ایک تم اور ہر ایک نوع کے انسانوں کا مجھے تجربہ حاصل ہو اس لئے ہر ایک صحبت میں مجھے رہنا پڑا۔اس کے علاوہ ایک زبر دست حکمت الہی جو اپنی شان میں بڑی عظمت و اہمیت رکھتی تھی) آپ کے قیام سیالکوٹ کی یہ تھی کہ سولہ سترہ برس کی عمر سے جس معرکے کی تیاری میں مصروف تھے اس کی پہلی مہم آپ کو سیالکوٹ میں سر کرنا تھی یعنی نصرانیت کے دفاع کے لئے جدوجہد کا آغاز - اسی طرح اللہ تعالٰی کی ایک بڑی مصلحت یہ کار فرما تھی کہ آپ اپنے گاؤں کی چار دیواری اور خاندان کے حلقہ سے نکل کر ایک شہری آبادی میں اقامت گزین ہوں جہاں آپ کے پاکیزہ شباب اعلیٰ کیریکٹر ، ہمدردی خلق، غمخواری دین، تعلق باللہ اور عشق قرآن ہونے کے شاہد مسلمانوں اور غیر مسلموں دونوں میں پیدا ہو جائیں اور آپ کی صداقت پر زندہ گواہ ہوں۔قادیان کے لوگ آپ کے مزارعہ تھے اور ان پر اکثر آپ ہی کے خاندان کا عمل ودخل اور قبضہ و اقتدار تھا۔اس لئے ان کی شہادت پر تو رد و تدرج کی گنجائش نکل سکتی تھی مگر سیالکوٹ کے رہنے والے ایک دوسرے شہر کے آزاد باشندے تھے جن کی چشم دید گواہیاں طمع و نفسانیت پر مبنی قرار نہیں دی جا سکتیں۔سیالکوٹ میں آپ کی قیام گا ہیں اور حفاظت الہی کے نظارے حضرت مسیح موعود عليه الصلوة والسلام سیالکوٹ میں تشریف لائے تو آپ نے سب سے پہلے محلہ جھنڈانوالہ میں ایک چوبارے پر قیام فرمایا۔ایک دفعہ حضور پندرہ سولہ افراد کے ساتھ اس چوبارے میں آرام فرمارہے تھے کہ شہتیر سے تک تک کی آواز آئی۔اس پر آپ نے ساتھیوں کو سختی سے نکلنے کا حکم دیا جب آپ کے ساتھی نکل گئے تو آپ نے باہر آنے کا قصد کرتے ہوئے ابھی دوسرے زینہ پر ہی قدم رکھا تھا کہ اس کی چھت دھڑام سے اگری اور آپ معجزانہ طور پر بچ گئے۔حضور نے اس واقعہ کی تفصیل یوں بیان فرمائی: ایک دفعہ رات میں ایک مکان کی دوسری منزل پر سویا ہوا تھا اور اسی کمرہ میں میرے ساتھ پندرہ یا سولہ آدمی اور بھی تھے۔رات کے وقت شہتیر میں ٹک ٹک کی آواز آئی۔میں نے آدمیوں کو جگایا کہ شہتیر خوفناک معلوم ہوتا ہے یہاں سے نکل جانا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کوئی چوہا ہو گا خوف کی بات