تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 635
تاریخ احمدیت جلدا م مقدمه اقدام قتل اور بریت سلسلہ میں میرے پاس آتے ہیں اور ہزاروں کو میں نے اس سلسلہ میں دوسرے وکیلوں کے ذریعہ بھی دیکھا ہے۔بڑے بڑے نیک نفس آدمی جن کے متعلق کبھی وہم بھی نہیں آسکتا تھا کہ وہ کسی قسم کی نمائش یا ریا کاری سے کام لیں گے۔انہوں نے مقدمات کے سلسلہ میں اگر قانونی مشورہ کے ماتحت اپنے بیان کو تبدیل کرنے کی ضرورت سمجھی تو وہ بلا تامل بدل دیا لیکن میں نے اپنی عمر میں مرزا صاحب کو ہی دیکھا ہے جنہوں نے سچ کے مقام سے قدم نہیں بنایا۔میں ان کے ایک مقدمہ میں وکیل تھا۔اس مقدمہ میں میں نے ان کے لئے ایک قانونی بیان تجویز کیا اور ان کی خدمت میں پیش کیا۔انہوں نے اسے پڑھ کر کہا کہ اس میں تو جھوٹ ہے۔میں نے کہا کہ ملزم کا بیان حلفی نہیں ہو تا اور قانوناً اسے اجازت ہے کہ جو چاہے وہ بیان کرے اس پر آپ نے فرمایا قانون نے تو اسے اجازت دیدی ہے کہ جو چاہے بیان کرے مگر خدا تعالیٰ نے تو اجازت نہیں دی۔کہ وہ جھوٹ بھی بولے اور نہ قانون ہی کا یہ منشاء ہے بس میں کبھی ایسے بیان کے لئے آمادہ نہیں ہوں جس میں واقعات کا خلاف ہو۔میں صحیح صحیح امر پیش کروں گا۔مولوی صاحب کہتے تھے کہ میں نے کہا کہ آپ جان بوجھ کر اپنے آپ کو بلا میں ڈالتے ہیں۔انہوں نے فرمایا جان بوجھ کر بلا میں ڈالنا یہ ہے کہ میں قانونی بیان دے کرنا جائز فائدہ اٹھانے کے لئے اپنے خدا کو ناراض کرلوں۔یہ مجھ سے نہیں ہو سکتا خواہ کچھ بھی ہو یہ باتیں مرزا صاحب نے ایسے جوش سے بیان کیں کہ ان کے چہرہ پر ایک خاص قسم کا جلال اور جوش تھا۔لیکن میں نے سن کر کہا کہ پھر آپ کو میری وکالت سے کچھ فائدہ نہیں ہو سکتا۔اس پر انہوں نے فرمایا کہ ”میں نے کبھی وہم بھی نہیں کیا کہ آپ کی وکالت سے فائدہ ہو گا یا کسی اور شخص کی کوشش سے فائدہ ہو گا اور نہ میں سمجھتا ہوں کہ کسی کی مخالفت مجھے تباہ کر سکتی ہے میرا بھروسہ تو خدا پر ہے جو میرے دل کو دیکھتا ہے آپ کو وکیل اس لئے کیا ہے کہ رعایت اسباب ادب کا طریق ہے اور میں چونکہ جانتا ہوں کہ آپ اپنے کام میں دیانتدار ہیں اس لئے آپ کو مقرر کر لیا ہے۔۔۔مولوی فضل الدین کہتے تھے کہ میں نے پھر کہا کہ میں تو یہی بیان تجویز کرتا ہوں۔مرزا صاحب نے کہا۔" نہیں جو بیان میں خود لکھتا ہوں نتیجہ اور انجام سے بے پروا ہو کر وہی داخل کر دو۔اس میں ایک لفظ بھی تبدیل نہ کیا جاوے اور میں پورے یقین سے آپ کو کہتا ہوں کہ آپ کے قانونی بیان سے وہ زیادہ موثر ہو گا۔اور جس نتیجہ کا آپ کو خوف ہے وہ ظاہر نہیں ہو گا۔بلکہ انجام انشاء اللہ بخیر ہو گا اور اگر فرض کر لیا جاوے کہ دنیا کی نظر میں انجام اچھانہ ہو یعنی مجھے سزا ہو جاوے تو مجھے اس کی پروا نہیں۔کیونکہ میں اس وقت اس لئے خوش ہوں گا۔کہ میں نے اپنے رب کی کی بھٹی نافرمانی نہیں کی۔غرض مولوی فضل الدین صاحب (وکیل) نے بڑے جوش اور اخلاص te۔