تاریخ احمدیت (جلد 1)

by Other Authors

Page 634 of 725

تاریخ احمدیت (جلد 1) — Page 634

تاریخ احمدیت۔جلدا مقدمه اقدام قتل اور بریت ہاتھ مارنے کی بے حد کوشش کی۔لیکن اب راز کھل چکا تھا۔لہذا ۲۳- اگست ۷ ۱۸۹ء کو مسٹرولیم مانٹیگو ڈگلس نے حضرت اقدس کو بالکل بری کر دیا اور اپنے فیصلہ میں اس واقعہ کی پوری تفصیل دیتے ہوئے لکھا۔” جہاں تک ڈاکٹر کلارک کے مقدمہ کا تعلق ہے ہم کوئی وجہ نہیں دیکھتے کہ غلام احمد سے حفظ امن کے لئے ضمانت لی جائے یا یہ کہ مقدمہ پولیس کے سپرد کیا جائے اہزادہ بری کئے جاتے ہیں"۔پھر عین کچھری میں انہوں نے ہنستے ہوئے حضور کو مبارکباد پیش کی۔اور کہا کیا آپ چاہتے ہیں کہ ڈاکٹر کلارک پر مقدمہ چلائیں۔اگر چاہتے ہیں۔تو آپ کو حق ہے "۔ال حضرت اقدس نے جو ایمان افروز جواب دیادہ خدا کے اولو اعزم پیغمبروں ہی کی زبان سے نکل سکتا ہے۔حضور نے فرمایا ” میں کسی پر مقدمہ کرتا نہیں چاہتا۔میرا مقدمہ آسمان پر دائر ہے "۔اس طرح یہ ابتلاء تو چند روز کے اندر اندر ختم ہو گیا۔لیکن اس کا نتیجہ ایک عظیم الشان پیشگوئی اور نصرت الہی کا نشان بن کر رہ گیا جو ہمیشہ کے لئے یاد گار رہے گا۔مولوی فضل الدین صاحب وکیل اور لالہ اس مقدمہ نے ایک بار پھر واضح کر دیا کہ آپ کو دینا ناتھ ایڈیٹر ہندوستان کے تاثرات خدا تعالی پر کتنا ز بر دست تو کل و ایمان ہے جسے مصائب کے طوفان اور حوادث کی آندھیاں بھی متزلزل نہیں کر سکتیں۔اس ضمن میں لالہ دینا ناتھ ایڈیٹر " دیش ، ہندوستان" کا وہ بیان درج کرنا ضروری ہے جو انہوں نے جولائی ۱۹۳۴ء میں بمقام لاہور حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی کے سامنے دیا تھا انہوں نے بتایا کہ " آپ کو معلوم ہے کہ میرے دل میں مرزا صاحب (حضرت اقدس صحیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام) کی کس قدر عظمت ہے ان کا مقام اور مرتبہ بہت عظیم الشان سمجھتا ہوں اگر چرا چہ ان کے دعاوی کے متعلق علم النفس کی رو سے میں یہ مانتا ہوں کہ ان کو سمجھنے میں غلطی ہوئی لیکن ایک مہاپرش اور روحانی آدمی کے لحاظ سے بہت بڑے مرتبہ کے انسان تھے۔اور یہ عقیدہ ان کے متعلق ایک واقعہ سے ہوا۔حکیم غلام نبی زبدۃ الحکماء کو آپ جانتے ہیں اور مولوی فضل الدین صاحب وکیل کو بھی۔حکیم صاحب کے مکان پر اکثر دوستوں کا اجتماع شام کو ہوا کر تا تھا میں بھی وہاں چلا جا تا تھا۔ایک روز وہاں کچھ احباب جمع تھے۔اتفاق سے مرزا صاحب کا ذکر آگیا۔ایک شخص نے انکی مخالفت شروع کی۔لیکن ایسے رنگ میں کہ وہ شرافت و اخلاق کے پہلو سے گری ہوئی تھی۔مولوی فضل الدین صاحب مرحوم کو یہ سن کر بہت جوش آگیا۔اور انہوں نے بڑے جذبہ سے کہا کہ میں مرزا صاحب کا مرید نہیں ہوں۔انکے دعاوی پر میرا یقین نہیں اس کی وجہ خواہ کچھ ہو لیکن مرزا صاحب کی عظیم الشان شخصیت اور اخلاقی کمال کا میں قائل ہوں۔میں وکیل ہوں اور ہر قسم کے طبقہ کے لوگ مقدمات کے